November 3, 2026

*تین مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہے* جمعرات 04 دسمبر 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2025-12-03_130700

*تین مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہے*

جمعرات 04 دسمبر 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

سوال:
عوام میں مشہور ہے کہ تین مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی جائے تو پورے قرآن پاک پڑھنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
کیا یہ بات قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح ہے؟
اور کیا یہ قرآن کی تلاوت کا مکمل بدل ہے؟

جواب (مختصر حکم)

✔ جی ہاں! صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سورۃ الاخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے، اور تین مرتبہ پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہو سکتا ہے۔
✔ لیکن یہ بات “ثواب” کے بارے میں ہے، “قرآن مکمل پڑھنے” کا بدل نہیں ہے۔

❌ تین بار سورۃ الاخلاص پڑھنے سے قرآن کی تلاوت کا عمل ادا نہیں ہو جاتا۔

دلائل قرآن و حدیث کے ساتھ

1.سورۃ الاخلاص کا مقام قرآن کی روشنی میں

اگرچہ قرآن میں براہِ راست یہ الفاظ نہیں کہ “سورہ اخلاص پورے قرآن کے برابر ہے”، لیکن قرآن میں اللہ کی وحدانیت کی عظمت اور اہمیت کو سب سے مرکزی مقام حاصل ہے۔

قرآن کا ایک بڑا حصہ توحید پر مشتمل ہے۔
اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے بھی سورۃ الاخلاص کو عظمت عطا فرمائی۔

2.صحیح احادیث میں واضح دلیل
حدیث 1 — صحیح بخاری

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سورۃ قل ھو اللّٰہ احد قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔”
(صحیح بخاری: 6643)

حدیث 2 — صحیح مسلم
آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا تم میں سے کوئی شخص رات میں ایک تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے؟”
صحابہؓ نے کہا: کون پڑھ سکتا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔”
(صحیح مسلم: 811)

حدیث 3 — سنن نسائی
نبی ﷺ نے فرمایا:
“سورۃ الاخلاص ثلث القرآن ہے۔” (نسائی: 992)

✔ یہ تمام احادیث صحیح اور معتبر ہیں۔

3.تین مرتبہ پڑھنے کا نتیجہ

چونکہ:
1 مرتبہ = ایک تہائی
3 مرتبہ = تین تہائی = پورا قرآن

لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ
تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہو سکتا ہے۔

4.لیکن یہاں غلطی کہاں ہوتی ہے؟
اکثر عوام یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ:

❌ تین بار سورہ اخلاص پڑھ لی تو پورا قرآن پڑھ لیا.

❌ اب مکمل قرآن کی تلاوت کی ضرورت نہیں.

❌ یہ قرآن پڑھنے کا قائم مقام ہے

یہ سراسر غلط ہے۔

علماء اس غلط فہمی کی تین بڑی وجوہات بیان کرتے ہیں:

5.علماء کی وضاحت: “ثواب” اور “بدل” میں فرق

1️⃣ یہ صرف اجر و ثواب کی فضیلت ہے

“ثلث القرآن” کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں پورا قرآن موجود ہے،
بلکہ:

✔ یہ توحید کے مضمون کا خلاصہ ہے

✔ قرآن کا ثواب اللہ نے اس کو عطا فرمایا ہے

✔ لیکن قرآن کے حکم، معانی، قصے، شریعت اس میں موجود نہیں

2️⃣ قرآن کی مکمل تلاوت کا ثواب بہت عظیم ہے

پورے قرآن کی تلاوت کا:

✔ الگ ثواب
✔ الگ فضیلت
✔ الگ نور
✔ الگ اثر
✔ اور الگ برکت ہے

یہ کسی صورت سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھ کر حاصل نہیں ہو سکتا۔

3️⃣ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تمام ائمہ

کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ:

“تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر قرآن ختم سمجھ لیا جائے۔”

بلکہ وہ ہمیشہ:
✔ قرآن پڑھتے
✔ ختم کرتے
✔ تراویح میں مکمل قرآن سناتے
✔ قرآن کی تلاوت پر زور دیتے

اگر صرف سورہ اخلاص کافی ہوتی تو وہ ایسا نہ کرتے۔

نتیجہ (حتمی فتویٰ)

✔ سورۃ الاخلاص کا ایک مرتبہ پڑھنا ایک تہائی قرآن کے برابر ثواب رکھتا ہے — احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔

✔ تین مرتبہ پڑھنے کا ثواب پورے قرآن کے برابر ہو سکتا ہے — یہ بات درست ہے۔

❌ لیکن یہ قرآن کی تلاوت کا بدل نہیں ہے۔

❌ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اس نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے۔

چند اہم فوائد۔
1.سورۃ الاخلاص کا عظیم ترین مضمون “توحید” ہے

2.اس میں اللہ کی صفات اور یکتائی بیان ہوئی

3.اس سورت سے محبت جنت میں لے جاتی ہے
(حدیث: ترمذی و نسائی)

الدعاء
یا اللہ تعالی قرآن مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے تو توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333