*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: جھوٹ؛ قومی زوال کی بنیاد اور سچائی؛ کامیابی کی ضمانت*
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: جھوٹ؛ قومی زوال کی بنیاد اور سچائی؛ کامیابی کی ضمانت*
*تحریر: جاوید صدیقی، جرنلسٹ و کالمکار کراچی*
ہماری قومی بدقسمتی ہے کہ جھوٹ، منافقت، دھوکا دہی اور وعدہ خلافی نے ہمارے اجتماعی کردار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں سچ بولنے کے بجائے جھوٹ کے ذریعے مفادات حاصل کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
*یاد رکھیں!! جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ اور اخلاقی زوال کا بنیادی سبب ہے*
جھوٹ کو اپنی زندگی سے نکال باہر کریں، اسے ہمیشہ کے لیے دفن کردیں۔ زندگی میں ایسا کردار اپنائیں کہ سامنے موت کھڑی ہو یا ناقابلِ تلافی نقصان، آپ سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ سچ کے ساتھ جینا سیکھیں اور سچ کی خاطر ہر قربانی دینے کا حوصلہ پیدا کریں۔
*اللہ کی قسم!! سچائی پر ثابت قدم رہنے والے ہی حقیقی معنوں میں دنیا و آخرت کی کامیابی کے مستحق ہیں*
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ترجمہ: اےایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ (سورۃ التوبہ: 119) دینِ اسلام کی خوبصورتی ہی صداقت، امانت اور اعلیٰ کردار میں پوشیدہ ہے۔ رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیاں سچائی، دیانت اور وفائے عہد کی روشن مثالیں ہیں۔
*آئیے! پہلے اپنی ذات کو جھوٹ سے پاک کریں*
پھر اپنے خاندان، معاشرے اور ریاست کی اصلاح کا عزم کریں۔ کیونکہ جس قوم کے افراد سچ بولنے لگیں، اس قوم کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ سچ کو اپنا کردار، دیانت کو اپنا شعار اور حق کو اپنی پہچان بنائیں۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ کلمہ گو مسلمان سچائی کو فراموش کرکے جھوٹ، فریب اور منافقت میں اپنی عافیت تلاش کر رہے ہیں، جبکہ دنیا کے بہت سے غیر مسلم معاشروں میں سچائی، دیانت، قانون کی پاسداری اور وعدے کی تکمیل کو عملی زندگی کا بنیادی اصول بنایا جاتا ہے۔ یہی وہ اخلاقی اقدار ہیں جن کی تعلیم قرآن و سنت نے ہمیں صدیوں پہلے دی تھی۔
*افسوس! ہم نے کلمہ پڑھ کر ایمان کا اقرار تو کرلیا*
مگر اپنے کردار، معاملات، تجارت، سیاست، حکمرانی اور معاشرت میں تعلیماتِ قرآن و سنت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ دوسری طرف بعض غیر مسلم معاشرے اپنے عملی نظم و ضبط اور اخلاقی اصولوں کے باعث ایسے نتائج حاصل کر رہے ہیں جنہیں دیکھ کر ہمیں اپنے اسلامی اصول یاد آتے ہیں۔ یاد رکھیے! اسلام محض نام، شناخت یا دعوے کا نہیں
بلکہ عقیدے، کردار اور عمل کا دین ہے۔
*مسلمان کی اصل پہچان*
مسلمان کی اصل پہچان اس کی سچائی، امانت، انصاف اور وعدے کی پاسداری ہونی چاہیے۔ ہمیں دوسروں کو کافر کہنے سے پہلے اپنے کردار کا محاسبہ کرنا ہوگا؛ کیونکہ کلمہ زبان سے ادا ہوتا ہے، مگر اس کی گواہی ہمارے اعمال دیتے ہیں۔ جب تک ہم جھوٹ کو دفن، سچ کو زندہ، بددیانتی کو مسترد اور عدل و انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے، تب تک زوال، بداعتمادی اور ناکامیوں سے نجات ممکن نہیں۔
*پاکستان کا نظامِ ریاست*
پاکستان کا نظامِ ریاست، پارلیمانی سیاست اور حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی آج ایک ایسے سنگین سوال کی زد میں ہے جس کا جواب قوم کئی دہائیوں سے تلاش کر رہی ہے۔ کیا پاکستان کے حکمران، سیاست دان، پارلیمنٹیرینز اور مقتدر حلقوں نے کبھی دیانت داری سے اپنا محاسبہ کیا ہے کہ وہ اپنے منصب، ملک، ریاست اور عوام کے ساتھ کس قدر سچائی، ایمانداری اور انصاف کا حق ادا کرتے چلے آرہے ہیں؟ عالمِ اسلام کی قیادت کا خواب دیکھنے والے پاکستان کے حکمرانوں سے جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی کا سوال ہے کہ کیا قیادت محض بلند بانگ دعووں، مذہبی نعروں، سیاسی تقریروں اور اقتدار کے حصول کا نام ہے؟ کیا ایک اسلامی ریاست کی پہچان یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہاں سچائی، عدل، مساوات، امانت، قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کی پاسداری ہو؟ افسوس کہ جب حکمران قوم سے قربانی مانگتے ہیں تو خود احتسابی سے گریز کرتے ہیں۔ عوام کے لیے قانون کی سختی اور بااثر طبقات کے لیے رعایتیں، غریب کے لیے مہنگائی اور اشرافیہ کے لیے مراعات، عام شہری کے لیے انصاف کی طویل جدوجہد اور طاقتور کے لیے خصوصی سہولتیں آخر کس طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہیں؟ ریاست کسی خاندان، سیاسی جماعت، ادارے یا مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ اقتدار کوئی اعزاز نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ منصب کوئی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ قوم کے اعتماد کا مقدس امانت ہے۔ اسلام کو صرف اپنی شناخت نہیں، اپنی عملی زندگی بنائیے۔
*پاکستانی من حیثیت القوم کتنے فیصد جھوٹ پر زندگی استوار کیے بیٹھے ہیں؟*
اس سوال کا دیانت دارانہ جواب یہ ہے کہ پاکستانی قوم کے بارے میں کوئی مستند، ملک گیر سائنسی سروے دستیاب نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ 50، 70 یا 90 فیصد پاکستانی جھوٹ بولتے ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی مخصوص فیصد بیان کرنا حقیقت کے بجائے قیاس آرائی ہوگی۔ البتہ اس سوال کا ایک نہایت اہم پہلو ہے: جھوٹ صرف زبان سے غلط بات کہنے کا نام نہیں، بلکہ جھوٹی گواہی، وعدہ خلافی، ملاوٹ، جعل سازی، بددیانتی، رشوت، دھوکا دہی اور حقائق چھپانا بھی اسی اخلاقی بحران کی مختلف صورتیں ہیں۔
*دستیاب تحقیقی اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟*
•فروری 2026 کے Ipsos اور FPCCI کے مشترکہ سروے کے مطابق 68 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ سرکاری اداروں میں رشوت عام ہے، جبکہ 27 فیصد نے خود رشوت طلب کیے جانے کا تجربہ بیان کیا۔
•ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے 2025 کے سروے میں 77 فیصد شہری حکومت کی انسدادِ بدعنوانی کوششوں سے غیر مطمئن تھے۔
*جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی کا بنیادی مؤقف*
پاکستانی قوم کو کسی غیرمصدقہ فیصد کے ذریعے جھوٹا قرار دینا درست نہیں، لیکن یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ ہم میں کتنے لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں سچائی، امانت، دیانت، وعدے اور حقوق العباد کی مکمل پاسداری کرتے ہیں؟ جاوید صدیقی کی رائے میں پاکستان کا سب سے بڑا المیہ صرف بدعنوان حکمران نہیں بلکہ معاشرے میں سچائی اور کردار کا کمزور ہوتا ہوا معیار بھی ہے۔
*ایک بنیادی سوال: کیا ہم پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں یا صرف دوسروں کو بدلتا دیکھنا چاہتے ہیں؟*
کیونکہ قومی اصلاح کا آغاز حکمرانوں سے ضرور ہونا چاہیے، لیکن اس کا اختتام ہر فرد کے اپنے احتساب پر بھی ہونا لازمی چاہیے۔۔!!