*خضدار ترقیاتی منصوبوں کی غیر شفاف تقسیم بے نقاب! مفلوج عوامی اسکیمات پر کرپشن، اقرباپروری، اور فرد واحد کی منظور نظر ہے — سیاسی پارٹیوں کے پریس کانفرنس کی مکمل حمایت کرتے ہے۔* *کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان*
*خضدار ترقیاتی منصوبوں کی غیر شفاف تقسیم بے نقاب! مفلوج عوامی اسکیمات پر کرپشن، اقرباپروری، اور فرد واحد کی منظور نظر ہے — سیاسی پارٹیوں کے پریس کانفرنس کی مکمل حمایت کرتے ہے۔*
*کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان*
کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (بلوچستان) کے چیف کوآرڈینیٹر میر نیاز احمد نے اپنے ایک اہم بیان کہا کہ صوبے میں گڈ گورننس کے دعویداروں کی حکومت ہے، لیکن میرٹوکریسی سے قطع نظر پورے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ صوبے کے وسائل پر جس طرح لوٹ مار، کمیشن خوری اور غیر شفاف فیصلے جاری ہیں، وہ تشویشناک ہیں۔
محکمے عوامی خدمت کے بجائے ذاتی جاگیر اور ذاتی مفادات بڑھانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خضدار کی ترقی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ فرد واحد اور اس کی مخصوص کمپنی گزشتہ سات سال سے مسلسل منظورِ نظر ہے۔اور مفادات پر مبنی فیصلوں نے پورے نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔
خضدار کی سیاسی جماعتوں کی پریس ریلیزز اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اقرباپروری، کمیشن خوری اور منظورِ نظر ٹھیکداروں کی لوٹ مار نے عوامی اسکیمات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عوامی فلاح کے منصوبے رک گئے ہیں اور بار بار کرپشن کے نظر کیے جا رہے ہیں۔
کیپ پاکستان کے چیف کوآرڈینیٹر (بلوچستان) میر نیاز احمد کا کہنا تھا کہ یہ کھلا ڈاکہ خضدار کے عام عوام اور مقامی ٹھیکداروں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔ اصل ناانصافی اور کرپشن کی بنیاد اسی غیر شفاف اور منظورِ نظر نظام سے شروع ہوتی ہے۔
ٹینڈرز کا میرٹ پر نہ ہونا ہی کرپشن کے عروج کی اصل وجہ ہے۔جب میرٹ ختم ہو جائے تو لوٹ مار اور اقرباپروری خودکار طریقے سے بڑھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پورے پاکستان میں کرپشن نے اداروں کو کمزور کر دیا ہے، اور میرٹ کی عدم موجودگی نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔
بلوچستان کا بنیادی مسئلہ دہائیوں پر محیط کرپشن، بدترین گورننس اور غیر ذمہ دارانہ فیصلے ہیں۔ کرپشن دیمک بن کر بلوچستان کے بنیادی ڈھانچے، ترقیاتی عمل اور عوامی حقوق کو اندر سے چاٹ رہی ہے۔