راجہ نور الٰہی عاطف — علم و قلم کا درخشاں حوالہ خصوصی تحریر: ملک سجاد حسین چنڑ
راجہ نور الٰہی عاطف — علم و قلم کا درخشاں حوالہ
خصوصی تحریر: ملک سجاد حسین چنڑ
راجہ نور الٰہی عاطف ایک ہمہ جہت اور متوازن شخصیت کے مالک ہیں جو تدریس اور صحافت دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ ان کی علمی بصیرت، تحقیق پر مبنی سوچ اور معاشرتی معاملات پر گہری نظر انہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں جگہ فراہم کرتی ہے۔ ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو تعلیم اور میڈیا، دونوں کو معاشرتی اصلاح اور فکری آگہی کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں، اور انہی دونوں میدانوں میں مسلسل اور بامقصد خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تدریس کے میدان میں راجہ نور الٰہی عاطف نے اپنے اخلاص، دلجمعی اور جدید تدریسی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے ایک منفرد مقام پیدا کیا ہے۔ ان کے شاگرد ہمیشہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف ایک ماہر استاد ہیں بلکہ ایک رہنما بھی ہیں جو محض کتابی معلومات پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ طلبہ کی اخلاقی و فکری تربیت کو بھی اولین اہمیت دیتے ہیں۔ پیچیدہ موضوعات کو آسان زبان میں سمجھانا، طلبہ کی ضروریات کے مطابق رہنمائی کرنا اور سیکھنے کو دلچسپ بنانا ان کی تدریس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ یہ ان کا ہی انداز ہے کہ طلبہ نہ صرف مضمون کو سمجھتے ہیں بلکہ ان میں سوچنے، تجزیہ کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔
صحافت سے ان کی دلچسپی محض ایک شوق نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ وابستگی ہے۔ ملکی اور علاقائی حالات پر ان کی نظر نہایت باریک بین اور حقیقی حالات سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ وہ حالات کی ظاہری سطح سے آگے بڑھ کر ان کے پس منظر، اثرات اور ممکنہ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف درست معلومات ہوتی ہیں بلکہ ایک ایسا فکری توازن بھی نظر آتا ہے جو ایک سنجیدہ لکھاری کی پہچان ہے۔ عوامی مسائل، سماجی رویے، سیاسی حالات اور علاقائی معاملات—ان سب پر ان کا قلم کھل کر مگر ذمہ داری کے ساتھ چلتا ہے۔ وطن عزیز کی صحافت کے سرمایہء افتخارراجہ نور الٰہی عاطف بیسیوں قومی و علاقائی اخبارات اور متعدد آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ قلمی تعاون رکھتے ہیں۔ ان کے کالم، تجزیے، رپورٹس اور فیچر مضامین مختلف جرائد میں باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں، جنہیں قارئین سنجیدگی سے پڑھتے اور ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہیں صحافتی حلقوں میں ایک معتبر، سنجیدہ، باخبر اور غیر جانبدار لکھاری کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں سنسنی خیزی یا تعصب کے بجائے سچائی، شفافیت، دلیل اور متوازن نقطۂ نظر نمایاں ہوتا ہے۔
راجہ نور الٰہی عاطف کی شخصیت کے ان دونوں پہلوؤں—تدریس اور صحافت—مسلسل ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ تعلیم نے انہیں فکر دی، جب کہ صحافت نے انہیں اظہار کا پلیٹ فارم مہیا کیا۔ وہ جہاں کلاس روم میں نوجوان ذہنوں کی تربیت میں مصروف ہوتے ہیں، وہیں اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کے بڑے مسائل اور چیلنجوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ یہی ہمہ گیر خدمات انہیں نہ صرف ایک باوقار استاد بناتی ہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور معتبر صحافی بھی۔ آخر پر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ عظیم بابرکت ذات والا صفات ،انہیں ،ان کی پوری فیملی اور ان سے وابستہ ہررشتے کودائم شادوآباد رکھیں۔ آمین