*رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نماز تہجد کا طریقہ(طبع چہارم)*
منگل 02 دسمبر 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
مسئلہ نمبر 227
*آنحضرت صلی ﷲ علیہ والہ وسلم کی نماز تہجد*
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل تہجد کی نماز ہے(رواہ مسلم)
مسئلہ نمبر 228
*اہتمام تہجد*
جسنے نماز تہجد پڑھنی ہو وہ عشاء کی نماز میں وتر نہ پڑھے یعنی چھوڑ دے اور صبح تہجد کے وقت یعنی آذان فجر سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے اٹھے اور وضو بنا کر نماز تہجد ادا کرے اور عشاء کے چھوڑے ہوئے وتر تہجد کی نماز کے آخر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم نے فرمایا کہ وتروں کو رات کی آخری نماز بناو۔
مسئلہ نمبر 229
*نماز تہجد کی رکعتیں*
حضرت عبداللہ بن ابوقیس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات کی نماز کتنی پڑھتے؟
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا
” کبھی چار نفل اور تین وتر (کل سات رکعت) کبھی چھ نفل اور تین وتر(کل نو رکعت)کبھی آٹھ نفل اور تین وتر(کل گیارہ رکعت) کبھی دس نفل اور تین وتر(کل تیرہ رکعت) ادا فرماتے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رات کی نماز سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی (رواہ ابوداؤد)
مسئلہ نمبر 230
*آنحضرت صلی ﷲ علیہ والہ وسلم کی نماز تہجد کا طریقہ۔*
نبی کریم ﷺ تہجد کی نماز سفر و حضر کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے ۔ جب کبھی آپ پر نیند کا غلبہ ہو جاتا یا کوئی تکلیف ہو جاتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔
مسئلہ نمبر 231
*چونکہ رات میں آپ اکثر گیارہ رکعت نماز تہجد پڑھتے تھے اور اگر کسی بھی وجہ سے آپ نماز تہجد نہ پڑھ سکتے تو ایک رکعت کے اضافے کے ساتھ بارہ رکعت نماز دن میں نماز ظہر سے پہلے ادا فرما لیا کرتے تھے کیونکہ دن میں وتر نماز نہیں ہوتی۔*
مسئلہ نمبر 232
*ہم نے شیخ السلام ابن تیمیہ ؒ کو اس دلیل کے متعلق فرماتے سنا کہ وتر اپنے محل سے قضاء ہوجانے کے بعد قضاء نہیں ہوتی جس طرح تحیۃ المسجد ، نماز کسوف اور نماز استسقاء وغیرہ ، کیوں کہ اس سے مقصود یہ ہے کہ رات کی آخری نماز وتر ہے۔آپ ﷺ نماز تہجد میں گیارہ یا تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۔گیارہ رکعتوں پر اتفاق ہے اور آخری دو رکعتوں پر اختلاف ہے کہ وہ فجر کی سنتیں تھیں یا کوئی اور نماز تھی، اس طرح جب فرائض اور ان سنن موکدہ کو جمع کیا جائے، جب آپ مواظبت کرتے تھے تو مجموعی طور پر چالیس رکعتیں ہوتی ہیں، اس کے علاوہ کوئی نماز پڑھی تو پابندی سے نہیں پڑھی۔
سوال نمبر 233
*ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ تا حیات اس طرح معمول رکھے اس لئے کہ جو شخص دن اور رات میں چالیس مرتبہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو ظاہر بات ہے کہ کس قدر جلد سن لی جاےئے گی۔*
مسئلہ نمبر 234
*نبی کریم ﷺ جب رات کے وقت جاگتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔*
*(لا الہ الا انت سبحانک الھم استغفرک لذنبی، وأسالک رحمتک الھم زدنی علما ولا تزغ قلبی بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب)*
ترجمہ: تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، اے ﷲ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، اور تجھ سے تیری رحمت طلب کرتا ہوں ، اے ﷲ میرے علم میں اضافہ فرما اور ہدایت کی بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر، مجھ کو اپنی رحمت سے نواز، تو بہت نوازنے والا ہے۔
مسئلہ نمبر 235
*جب آپ ﷺ سو کر اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے:*
(الحمد ﷲ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور)
تمام تعریفیں اس ﷲ کے لیے ہیں ، جس نے ہم کو موت (نیند) کے بعد زندگی عطاء کی اور اسی کے پاس جمع ہونا ہے۔
مسئلہ نمبر 236
*پھر اس کے بعد آپ ﷺ مسواک فرماتے ۔ بسا اوقات سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرماتے*
(ان فی خلق المسٰوٰتِ والارض) سے آخر سورۃ تک تلاوت فرماتے تھے ، پھر وضو کرتے اور مختصر دو رکعتیں پڑھتے،
*تحتہ الوضو*
مسئلہ نمبر 237
*حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے اسے پڑھنے کا حکم معلوم ہوتا ہے۔جب رات آدھی گذر جاتی اس سے قبل یا اس کے بعد آپ اٹھنتے اور اکثر اوقات اس وقت اٹھتے جب آواز دینے والے یعنی مرغ کی آواز سنتے اور اور وہ اکثر نصف ثانی (رات کے آخری نصف) میں آواز لگاتا تو آپ اپنا ورد کئی حصوں میں کر دیتے اور کبھی مسلسل جاری رکھتے اور یہی زیادہ تر ہوتا، کئی حصوں میں ادا کرنے کی صورت حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتائی کہ دو رکعتیں نماز ادا کر کے آپ ﷺ سو جاتے تھے، اس طرح تین مرتبہ میں چھ رکعتیں ادا فرماتے تھے اور ہر مرتبہ اٹھ کر مسواک اور وضو کرتے، پھر تین رکعت وتر ادا کرتے*
مسئلہ نمبر 238
*نماز وتر*
*آپ ﷺ وتر کئی طرح پڑھتے تھے ایک کیفیت کا ذکر ابھی ہوا،*
مسئلہ نمبر 239
*دوسری صورت یہ ہے کہ آپ آٹھ رکعتیں اس طرح پڑھتے تھے کہ ہر دو رکعت بعد سلام پھیرتے تھے ، پھر مسلسل پانچ رکعتیں بطور وتر پڑھتے*
صرف آخر میں تشہد کے لئے بیٹھتے تھے۔
مسئلہ نمبر 240
*تیسری صورت: نو رکعت اس طرح پڑھتے تھے کہ آٹھ رکعت مسلسل پڑھتے اور صرف آٹھویں رکعت کے آخر میں بیٹھتے اور ﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتے، دعاء مانگتے اور پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے ، پھر نویں رکعت میں تشہد پڑھتے اور سلام پھیر دیتے، سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔*
مسئلہ نمبر 241
*پانچویں صورت: دو دو رکعتیں پڑھ کر آخر میں تین رکعت وتر پڑھ لیتے ، جس میں قعد یا تشہد کا فاصلہ نہ ہوتا ۔ اس کو امام احمد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان وقفہ نہیں کرتے تھے، تاہم یہ روایت محل نظر ہے۔ کیونکہ صحیح ابن حبان میں ابو ہریرہؓ سے مرفوع روایت ہے کہ ” تین رکعت وتر نہ پڑھو، پانچ یا سات پڑھو،
مسئلہ نمبر 242
*وتر کو مغرب کی نماز کے مشابہ نہ بناؤ ۔*
امام دار قطنی کہتے ہیں کہ اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں۔حرب کہتے ہیں کہ امام احمد سے وتر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے۔” اگر سلام نہ پھیر سکا تو میرا خیال ہے کہ کوئی نقصان دہ بات نہیں ہے لیکن سلام پھیرنا نبی اکرم ﷺ سے زیادہ مستند طریقے سے ثابت ہے۔
مسئلہ نمبر 243
*ایک رکعت وتر*
ابو طالب کی روایت میں ایک قول مذکور ہے کہ زیادہ قویٰ روایت ایک رکعت والی ہے اور میں اسی کا قائل ہوں۔
مسئلہ نمبر 244
چھٹی صورت:جیسا کہ امام نسائی ؒ نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رمضان میں رسول ﷲ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو رکوع میں قیام کے بعد بقدر یہ دعاء پڑھی(سبحان ربی العظیم) اسی حدیث میں ہے کہ آپ نے ابھی چار رکعتیں پڑھی تھیں کہ حضرت بلال صبح کی نماز کے لئے آپ کو بلانے آ گئے۔
مسئلہ نمبر 245
*آپ نے رات کی ابتدائی، درمیانی اور آخری حصہ میں وتر پڑھے، ایک رات قیام میں صبح تک صرف ایک آیت ہی پڑھتے رہے، اور وہ یہ تھی:*
(ان تعذبھم فانہم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم) (المائدہ: 118)
ترجمہ: اگر تو ان کو عذاب دیگا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دیگا تو غالب حکمت والا ہے۔
مسئلہ نمبر 246
*وتروں کو رات کی آخری نماز بناو*
رات میں آپکی نماز تین طرح کی ہوتی تھی،
ایک یہ کہ آپ زیادہ تر کھڑے ہو کر نماز پڑھے تھے، دوسرے بیٹھ کر نماز پڑھتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، تیسرے یہ کہ آپ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تھوڑی سے قرأت باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے اور پھر رکوع فرماتے۔ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ وتر کے بعد کبھی دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے اور کبھی بیٹھ کر ہی قرأت کرتے اور رکوع کے وقت کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے۔ اس حدیث میں بہت لوگوں کا اشکال ہوا اور انہوں نے آنحضور ﷺ سے اس ارشاد کو کہ “رات کی آخری نماز وتر بناؤ” کا معارض سمجھ لیا۔امام احمد فرماتے ہیں کہ میں ان دو رکعتوں کو نہ پڑھتا ھوں اور نہ کسی کو پڑھنے سے منع کرتا ہوں۔ امام مالک نے تو ان دونوں رکعتوں کا انکار کیا ہے۔ لیکن صحیح صورت یہ ہے کہ نماز وتر مستقل عبادت ہے اور وتر کے بعد دو رکعتیں مغرب کی سنتوں کی طرح ہیں۔اس طرح مذکورہ دونوں رکعتیں وتر کی تکمیل کا درجہ رکھتی ہیں مگر کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتیں۔
مسئلہ نمبر 247
*وتر میں نبی اکرم ﷺ سے قنوت ثابت نہیں۔*
صرف ابن ماجہ کی ایک حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ امام احمد کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں حضور ﷺ سے کچھ ثابت نہیں لیکن حضرت عمر ؓ پورے سال دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔اصحاب سنن نے قنوت پڑھنے کا سلسلہ میں حضرت حسن بن علیؓ کی حدیث کو روایت کیا ہے۔امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور کہا کہ ہم اس کو ابوالحوراء السعدی کے طریقے سے جانتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 248
نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھنا حضرت عمرؓ، حضرت ابی ابن کعب اور حضرت ابن مسعودؓ سے ثابت ہے۔ امام ابو داؤد اور امام نسائی نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ
مسئلہ نمبر 249
*رسول ﷲ ﷺ وتر میں سورۃ اعلیٰ، سورۃ الکافرون اور سورۃ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔
مسئلہ نمبر 250
وتروں میں سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ *(سبحان الملک القدوس)* کہا کرتے تھے۔
نبی اکرم ﷺ سورت ترتیل سے پڑھتے تھے، خواہ وہ بڑی سے بڑی کیوں نہ ہو۔ قرآن کریم پڑھنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ غور و فکر و تدبر سے کام لیا جائے۔ اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تلاوت اس کے مفہوم و معانی کے سمجھنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قرآن کریم عمل کے لئے نازل کیا گیا ہے اس لئے اس کی تلاوت کو عمل سمجھو۔ حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو جمرہ نے بتایا کہ میں نے ابن عباسؓ سے عرض کیا کہ میں جلدی پڑھنے کا عادی ہوں اور بسا اوقات ایک رات میں ایک یا دو قرآن ختم کرتا ہوں ۔ ابن عباسؓ نے فرمایا ” مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ ایک سورۃ پڑھوں بجائے اس کے کہ جو تم کرتے ہو۔ اگر تم کو تیز ہی پڑھنا ہے تو اس طرح پڑھو کہ کان سن سکیں اور دل یاد کر سکے۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے حضرت ابن مسعود کے سامنے تلاوت فرمائی تو انہوں نے فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، ترتیل سے پڑھو کیونکہ یہ قرآن مجید کی زینت ہے۔
نیز حضرت عبد ﷲ بن مسعود فرماتے ہیں کہ قرآن کو شعر کی طرح نہ گا کر پڑھو اور نہ فضول کلام کی طرح پڑھو بلکہ اس کو پڑھتے وقت اس کے عجائب پر ٹھہرو اور اس کے ذریعے دلوں کو حرکت دو اور دھیان محض سورۃ کو ختم کر دینے پر نہ لگا ہوا ہو۔مزید فرماتے ہیں “جب تک سنو کہ ﷲ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے” (یا ایھا الذین امنو) (ائے ایمان والو!) تو تم سراپا گوش ہو جاؤ یا تو تمہیں نیکی کا حکم دیا جائے گا یا برائی سے منع کیا جائے گا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی میں اس وقت ” سورۃ ہود” پڑھا رہا تھا۔ وہ کہنے لگی ، اے عبد الرحمن تو اس طرح سورۃ پڑھ رہا ہے ، بخدا میں اسے چھ مہینوں سے پڑھ رہی ہوں لیکن ابھی تک اسے ختم نہیں کر سکی ہوں۔رسول ﷲ ﷺ تہجد کی نماز میں کبھی آہستہ سے تلاوت فرماتے تو کبھی بہ آواز بلند ، دونوں طرح قرأت فرماتے تھے اور قیام کبھی مختصر کرتے اور کبھی طو یل، نفل نمازیں حالت سفر میں دن ھو یا رات سواری پر پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ جس طرف ہو، رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرتے تھے اور سجدہ رکوع سے زیادہ جھک کر کرتے تھے۔
مسئلہ نمبر 251
*وتروں کے بعد دو نوافل آپ بیٹھ کر پڑھتے تھے*
اس کے علاوہ دن میں کوئی بھی نفل نماز آپ بیٹھ کر نہیں پڑھتے تھے
*الدعاء*
اے میرے رب کریم! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے۔
اے ﷲ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت طلب کرتا ہوں۔
اے ﷲ میرے علم میں اضافہ فرما اور ہدایت کے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر، مجھے اپنی رحمت سے نواز، تو بہت نوازنے والا ہے۔
*یا اللہ تعالی ہمیں نماز تہجد قائم کرنے کی توفیق عطا فرما*
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00923008604333
نماز تہجد کا طریقہ