7

چھ کلموں کی شرعی حیثیت (قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیقی جائزہ) پیر 20 اپریل 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

چھ کلموں کی شرعی حیثیت
(قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیقی جائزہ)

پیر 20 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

1️⃣ تمہید
برصغیر (پاکستان، ہندوستان وغیرہ) میں بچوں کو عام طور پر “چھ کلمے” یاد کروائے جاتے ہیں، جیسے:

1.کلمہ طیبہ
2.کلمہ شہادت
3.کلمہ تمجید
4.کلمہ توحید
5.کلمہ استغفار
6.کلمہ ردِ کفر

📌 سوال یہ ہے کہ:
کیا یہ الفاظ بعینہٖ قرآن یا حدیث میں موجود ہیں؟ یا یہ بعد کی ترتیب ہے؟

2️⃣ حقیقت: یہ “چھ کلمے” قرآن یا حدیث کی اصطلاح نہیں

✔️ اہم بات:
“چھ کلموں” کی یہ ترتیب نہ قرآن میں موجود ہے اور نہ ہی احادیثِ نبویہ میں اس عنوان سے آئی ہے۔

🔎 یعنی:
نہ قرآن میں “پہلا کلمہ، دوسرا کلمہ…” کی تقسیم ہے

نہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح چھ کلمات سکھائے

3️⃣ پھر یہ کلمات آئے کہاں سے؟
یہ دراصل علمائے کرام کی تعلیمی ترتیب ہے، خاص طور پر برصغیر کے علماء نے بچوں کو بنیادی عقائد سکھانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا۔

📌 مقصد:
توحید سکھانا
رسالت کا عقیدہ واضح کرنا
استغفار اور ایمان کی بنیادیں دینا

یعنی یہ ایک Pedagogical (تعلیمی) نظام ہے، نہ کہ مستقل شرعی نص۔

4️⃣ کیا ان کلمات کے الفاظ قرآن و حدیث میں ہیں؟

✔️ جزوی طور پر ہاں — مگر مکمل شکل میں نہیں
مثالیں:

🔹 کلمہ طیبہ
“لا إله إلا الله محمد رسول الله”

“لا إله إلا الله” → قرآن و حدیث میں بار بار آیا

“محمد رسول الله” → قرآن (سورہ فتح 29)

✔️ مگر یہ مکمل جملہ اسی ترتیب سے ایک آیت یا حدیث میں نہیں

🔹 کلمہ شہادت
“أشهد أن لا إله إلا الله…”
✔️ یہ مفہوم صحیح احادیث میں واضح طور پر موجود ہے(صحیح بخاری و مسلم)

🔹 کلمہ استغفار
“أستغفر الله ربي من كل ذنب…”
✔️ استغفار کے الفاظ احادیث میں ہیں
لیکن یہ مکمل جملہ بطور “کلمہ نمبر 5” نہیں آیا

🔹 کلمہ رد کفر
اس میں کچھ ایسے جملے بھی شامل ہیں جو مختلف دعاؤں سے ماخوذ ہیں، مگر یہ مکمل ترتیب حدیث میں نہیں ملتی

5️⃣ ائمہ و علماء کا مؤقف
🔹 امام ابن تیمیہ
فرماتے ہیں:
عبادات اور اذکار میں اصل وہی معتبر ہیں جو نبی ﷺ سے ثابت ہوں۔

📌 اس اصول کے مطابق:
مخصوص ترتیب کو “سنت” سمجھنا درست نہیں
مگر درست عقائد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے سکھانا جائز ہے

🔹 امام نووی
نے اذکار کے باب میں واضح کیا:
جو اذکار نبی ﷺ سے ثابت ہیں وہ افضل ہیں

🔹 برصغیر کے علماء (مثلاً اشرف علی تھانوی وغیرہ)
انہوں نے ان کلمات کو تعلیمِ دین کے لیے مفید قرار دیا
مگر انہیں شرعی فرض یا سنت نہیں کہا

6️⃣ شرعی حکم (اہم نکتہ)
✔️ درست بات یہ ہے:

✅ یہ کلمات:
صحیح عقائد پر مشتمل ہیں
سیکھنا اور سکھانا جائز اور مفید ہے
❌ لیکن:
انہیں قرآن کا حصہ سمجھنا غلط ہے

یا نبی ﷺ کی مقرر کردہ “چھ کلموں” کی شکل سمجھنا درست نہیں

7️⃣ عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیاں

❌ “جو چھ کلمے نہ پڑھے وہ مسلمان نہیں”
❌ “یہ چھ کلمے دین کا لازمی حصہ ہیں”

✔️ حقیقت:
اسلام کی بنیاد صرف ایمان اور کلمہ شہادت ہے

⭐ جامع خلاصہ
“چھ کلمے” ایک تعلیمی ترتیب ہیں، نہ کہ نصِ شرعی

ان کے الفاظ مختلف آیات و احادیث سے ماخوذ ہیں
مکمل شکل میں یہ نہ قرآن میں ہیں نہ حدیث میں

سیکھنا مفید ہے، مگر انہیں لازمی دین یا سنت سمجھنا درست نہیں

⚖️ آخری شرعی فیصلہ (فتویٰ نما)

چھ کلموں کی موجودہ ترتیب شریعت سے ثابت نہیں، بلکہ یہ علماء کی تعلیمی کاوش ہے۔ ان کے الفاظ چونکہ درست عقائد پر مشتمل ہیں، اس لیے ان کا سیکھنا اور سکھانا جائز ہے، مگر انہیں قرآن یا سنت کا حصہ یا لازمی دینی حکم سمجھنا درست نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں دین کا صحیح علم سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین

تحقیق و ٹحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں