October 28, 2026

ملک عبد الواحد سگو — خدمت، شفافیت اور فرض شناسی کا درخشاں حوالہ خصوصی تحریر: راجہ نورالہیٰ عاطف

IMG-20251129-WA0379

ملک عبد الواحد سگو — خدمت، شفافیت اور فرض شناسی کا درخشاں حوالہ

خصوصی تحریر: راجہ نورالہیٰ عاطف

ملک عبد الواحد سگو کا نام ضلع خوشاب کی انتظامی تاریخ میں ایک ایسے روشن کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے اپنے منصب کو ذاتی وقار کا وسیلہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کی امانت سمجھ کر نبھایا۔ آج کے دور میں جہاں انتظامی معاملات میں بے شمار چیلنجز درپیش ہوتے ہیں، وہاں ایسے فرض شناس، قابلِ اعتماد اور ہر دلعزیز افسران کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں۔ ملک عبد الواحد سگو انہی چند نابغہ روزگار لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنے عمل اور اخلاق سے محکمے کی شان بڑھاتے ہیں۔ ملک عبدالوید شگو کا تعلق تحصیل نورپورتھل کے گاؤں کاتی مار تھل سے ہے وہ یہاں کی سگو برادری کے قابل فخر چشم و چراغ ہیں ۔ پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی تحصیل نورپورتھل کے بی سی سی آفیسر ملک عبدالواحد سگو پنجاب رورل سسٹین ایبل واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن پراجیکٹ تحصیل نور پورتھل کے مواضعات تیتری، چک نمبر 17 ،29 ایم بی ،51، 52 ڈی بی، نواں سگو ،کا تیمار تھل، رنگپور بگھور ،آدھی کوٹ ،آدھی سرگل، چک 53 اور 49ڈی بی میں جاری مختلف سکیموں کی بھرپور نگرانی کر رہے ہیں تاکہ یہ معیاری انداز میں مکمل ہو سکیں اور ان سے یہاں کے عوام مستفید ہو سکیں ۔
ملک عبد الواحد سگو کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے کو اپنے فرائض کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سرکاری منصب دراصل ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کے ہر فیصلے کا تعلق براہ راست عوام کے روزمرہ مسائل سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ عوام کی بات توجہ سے سنتے ہیں، خواہ وہ کسی بڑے مسئلے کے حل کی درخواست ہو یا کسی چھوٹے کام کی گزارش۔ان کا دفتر صرف ایک سرکاری جگہ نہیں بلکہ عوامی شکایات کے حل کا مرکز ہوتا ہے، جہاں ہر سائل اعتماد کے ساتھ آتا ہے اور مطمئن ہو کر واپس جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عام لوگوں کے دلوں میں ایک بااعتماد، نرم خو اور مددگار افسر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
ملک عبد الواحد سگو اپنی انتظامی صلاحیتوں کے باعث جہاں بھی تعینات رہے، وہاں مثالی نظم و ضبط، شفافیت اور بروقت فیصلوں کی روایت قائم کی۔
وہ معاملات کو کاغذی کارروائی کی تہوں میں دبانے کے قائل نہیں بلکہ بروقت اقدامات اور عملی نگرانی کے ذریعے نظام کو فعال رکھتے ہیں۔
ان کی قیادت کے دوران کئی ایسے پیچیدہ مسائل حل ہوئے جو ایک عرصہ سے لٹکے ہوئے تھے، جس کا سہرا ان کی مضبوط فیصلہ سازی اور ٹیم ورک کو جاتا ہے۔
سرکاری نظام میں شفافیت ایک ایسا معیار ہے جو ہر کسی میں نظر نہیں آتا، مگر ملک عبدا لواحد سگو نے دیانت اور قانون کی پاسداری کو ہمیشہ اپنی پہلی ترجیح بنایا۔
وہ سفارش، دباؤ، یا ذاتی روابط سے بالاتر ہو کر محض میرٹ اور اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔
ان کی یہی خوبی انہیں نہ صرف عوام بلکہ محکمے کے اندر بھی بے حد قابلِ احترام بناتی ہے۔
ایک اچھے افسر کی پہچان صرف اس کے فیصلے نہیں بلکہ اس کا رویہ بھی ہوتا ہے۔
ملک عبد الواحد سگو نرم گفتار، پروقار، خوش اخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں۔
ان کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھلے رہتے ہیں، اور ان سے ملاقات کرنے والا شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات کی قدر کی جا رہی ہے۔
یہی انداز انہیں ایک “ہر دلعزیز” افسر کا حقیقی روپ دیتا ہے۔
ملک عبد الواحد سگو دفتر کی حد تک محدود رہنے والے افسر نہیں بلکہ میدان میں اتر کر مسائل کا جائزہ لینے پر یقین رکھتے ہیں۔
وہ نگرانی کو صرف رپورٹوں کے ذریعے نہیں بلکہ خود موجودگی کے ذریعے یقینی بناتے ہیں۔
تحصیل یا ضلع کی سطح پر کوئی بھی مسئلہ ہو، وہ ذاتی طور پر اس کا جائزہ لینے پہنچتے ہیں، جس کے نتیجے میں بروقت اصلاحات اور بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، بلکہ ٹیم کے ساتھ مل کر چلنے سے ہی ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔
اسی لیے ان کے زیرِ نگرانی عملہ نہ صرف منظم ہوتا ہے بلکہ کام میں دلچسپی بھی لیتا ہے۔
وہ ہر فرد کو عزت دینے اور راہنمائی کرنے کے قائل ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی ٹیم ہمیشہ یکسو ہو کر کام کرتی ہے۔
ملک عبد الواحد سگو نے اپنے رویے اور خدمت کے ذریعے وہ عزت کمائی ہے جو کسی تخت و تاج سے نہیں ملتی۔
عوام انہیں صرف ایک سرکاری افسر نہیں بلکہ ایک ہمدرد، مددگار اور فرض شناس بھائی کے طور پر جانتے ہیں۔
ملک عبد الواحد سگو کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت میں اخلاص، دل میں انسانیت اور عمل میں امانت داری ہو تو کوئی منصب معمولی نہیں رہتا۔
وہ نہ صرف محکمے کے لیے اعزاز ہیں بلکہ نوجوان افسران کے لیے ایک روشن مثال بھی کہ اصل کامیابی طاقت میں نہیں بلکہ خدمت، شفافیت اور اخلاق میں ہے.