October 28, 2026

ڈیل ، ڈھیل یا بے بسی ؟؟؟ قاضی فائز عیسیٰ نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ موجودہ رجیم کے حق میں سنا دیا ہے اور عمران خان یہ کیس ہار گئے ہیں جنھوں نے نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں یہ کیس کیا تھا۔

20240905_150006

ڈیل ، ڈھیل یا بے بسی ؟؟؟

قاضی فائز عیسیٰ نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ موجودہ رجیم کے حق میں سنا دیا ہے اور عمران خان یہ کیس ہار گئے ہیں جنھوں نے نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں یہ کیس کیا تھا۔

نیب ترامیم کی وجہ سے عمران خان پہ بنایا ہوا 190 ملین پاؤنڈ کا نیب کیس بھی ختم ہو جاتا ہے مگر عمران خان نے ریلیف لینے کے بجائے نیب ترامیم کے خلاف کیس کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔

القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی بیگناہی ثابت ہو چکی ہے اور ضمانت طے ہے مگر نیب ترامیم بحال کر کے اور اس بنیاد پہ عمران خان کو ریلیف دے کر یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ عمران خان کو کرپشن کیس میں ریلیف ملا ہے تاکہ عمران خان اور باقی نیب زدہ لٹیروں میں کوئی فرق نہ رہے۔

دوسری جانب نو مئی کے تحت تحریک انصاف کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرتے ہوئے پارٹی کو کرش کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی۔ پندرہ ماہ میں نو مئی کا کوئی ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا ۔ اب نو مئی اسٹبلشمنٹ کے اپنے گلے پڑ رہی ہے کیونکہ اب اسلام آباد ہائیکورٹ بھی سی سی ٹی وی فوٹیج مانگ چکی ہے اور اب اگلا مرحلہ نو مئی کی تحقیقات کا ہے۔ یہی وجہ ہے فوجی قیادت اب نو مئی سے پیچھے ہٹ رہی ہے ۔ ترجمان پاک فوج کی گزشتہ دن ہونے والی پریس کانفرنس اور اس سے ایک دن قبل کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے سے بھی نو مئی کا ذکر غائب نظر آیا۔

بغض احباب سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح تحریک انصاف کو ریلیف دیا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اپنی امیج بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے اعلان کیا کہ قوم کو بتا دیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی ، میں آپ کی آزادی ان سے چھین کر آ رہا ہوں۔ عمران خان کی واپسی کا اعلان اسی تناظر میں تھا ۔

نو مئی سے پیچھے ہٹنے کے بعد سال سال بھر سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پڑے ہزاروں معصوم کارکنان کی رہائی کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے جن کی پہلے بھی کئی بار ضمانتیں ہو چکی ہیں ، اسے ڈیل کا نام دیا جائے گا ۔ اگر تحریک انصاف کو سپیس دینے کا حقیقی کوئی مظاہرہ نظر آیا تو ملٹری ٹرائل کی فوری بندش اور تحریک انصاف کی پنجاب بھر میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت کی صورت میں نظر آئے گا ۔ یہ سپیس بھی کسی ڈیل کے تحت نہیں بلکہ سیاسی جدوجہد کی مرہونِ منت ہو گی جہاں بالآخر عوامی ردعمل کنٹرول سے باہر ہوتا دیکھ کر جلسوں کی اجازت دی جائے گی۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کے کپتان نے ڈیل کرنی ہوتی تو چار سو دنوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دہکتے تندور میں نہ پڑا رہتا ۔ فتح کے دہانے پہ پہنچ کر ڈیل نہیں ، شکست خوردہ گروہ کو فرار کی راہ دی جاتی ہے اور عمران خان مزاکرات کے زریعے وہی فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کے مطالبے سے نہ قوم پیچھے ہٹے گی نہ قوم کا لیڈر ۔ لہذا جدوجہد پہ یقین رکھیں ، ڈیل کی افواہوں پہ نہیں۔