October 28, 2026

دی وژن سائنس سکول میں طالب علم پر مبینہ تشدد، محکمہ تعلیم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

IMG-20261028-WA0133

دی وژن سائنس سکول میں طالب علم پر مبینہ تشدد، محکمہ تعلیم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی
فقیروالی: دی وژن سائنس ہائر سیکنڈری سکول فقیروالی میں طالب علم کو مبینہ جسمانی سزا دینے کی شکایت پر محکمہ تعلیم نے باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (EE-M) تحصیل ہارون آباد کی جانب سے جاری کیے گئے دفتری حکم نامے کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی بہاولنگر کی ہدایات پر دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
جاری حکم نامے کے مطابق محمد احمد، AEO (M-08)، ہارون آباد کو کمیٹی کا کنوینر جبکہ محمد عدیل شوکت، AEO (M-16)، ہارون آباد کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شکایت کا غیر جانبدارانہ، شفاف اور حقائق پر مبنی جائزہ لے اور مبینہ واقعہ سے متعلق تمام پہلوؤں کی چھان بین کرے۔
انکوائری کمیٹی شکایت کنندہ اور متاثرہ طالب علم سمیت سکول کے پرنسپل، متعلقہ استاد یا دیگر اسٹاف ممبران اور واقعہ سے متعلق دوسرے افراد کے بیانات قلمبند کرے گی۔ اس کے علاوہ واقعہ سے متعلق دستیاب دستاویزی، الیکٹرانک یا دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پرنسپل کی جانب سے جمع کرائی گئی وضاحت کو بھی ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے اس کے متعلقہ حقائق کا جائزہ لیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم نے کمیٹی کو یہ بھی واضح ہدایت دی ہے کہ انکوائری کے دوران تمام متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے تاکہ معاملے کی حقیقت سامنے لائی جا سکے اور کسی ایک فریق کا مؤقف سنے بغیر نتیجہ اخذ نہ کیا جائے۔
حکم نامے میں ایک اہم بات یہ بھی واضح کی گئی ہے کہ FIR نمبر 640/26 تھانہ فقیروالی میں درج ہو چکی ہے اور معاملہ پولیس کی تفتیش میں ہے۔ اسی لیے محکمہ تعلیم کی انکوائری کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ جاری پولیس تفتیش پر اثرانداز ہونے یا اس میں مداخلت کرنے والا کوئی نتیجہ اخذ نہ کرے اور اپنی کارروائی کو محکمہ تعلیم کے انتظامی دائرۂ اختیار تک محدود رکھے۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ انکوائری مکمل کرکے ایک مدلل اور جامع رپورٹ مرتب کی جائے، جس میں دورانِ انکوائری سامنے آنے والے حقائق، متعلقہ افراد کے بیانات، دستیاب شواہد، کمیٹی کے نتائج اور مناسب سفارشات واضح طور پر درج ہوں۔ رپورٹ دستخط کنندہ کے ذریعے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی بہاولنگر کو پیش کی جائے گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ تعلیم نے انکوائری میں شفافیت، غیر جانبداری اور تمام فریقین کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے پر خصوصی زور دیا ہے۔ اب اصل توجہ انکوائری کمیٹی کی کارروائی اور اس کی حتمی رپورٹ پر مرکوز ہے، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ طالب علم کو مبینہ جسمانی سزا دینے کے معاملے میں حقائق کیا تھے اور محکمانہ سطح پر مزید کیا کارروائی بنتی ہے۔