سکھر سے خبر دے رھے ھمارے بیورو چیف سید۔ غیر حسین زیدی پرانے سکھر میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی
سکھر سے خبر دے رھے ھمارے بیورو چیف سید۔ غیر حسین زیدی
پرانے سکھر میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، تباہ حال سڑکوں اور سیوریج کے بگڑے ہوئے نظام کے خلاف دائر درخواست پر عدالت نے بلدیاتی اداروں اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے
تفصیلات کے مطابق، سال 2021 میں دائر کی گئی پٹیشن کی سماعت کے دوران درخواست گزار ایڈوکیٹ عبدالرحیم مہر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پرانا سکھر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں نہ پینے کا صاف پانی ہے، نہ گیس اور نہ ہی نکاسیٔ آب کا کوئی مناسب انتظام موجود ہے۔ سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ کونسل، ٹاؤن کمیٹی اور میئر سکھر کی جانب سے ایک دوسرے اور گیس کمپنی پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
عدالت نے 18 کروڑ اور ایک ارب روپے کے بحال شدہ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے استعمال پر استفسار کیا کہ یہ خطیر رقم کہاں خرچ کی گئی؟ کارروائی کے دوران اینٹی کرپشن کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی سے ملنے والے 5 کروڑ روپے اور منظور شدہ اسکیموں کے باوجود زمینی سطح پر کام نہ ہونے کے برابر رہا۔
درخواست گزار نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا کہ پرانے سکھر کے باسی نلکوں میں آنے والا گٹر کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات دینے کے بجائے کروڑوں روپے کے ٹھیکوں سے سڑکوں کے کنارے گملے اور گرلیں لگا کر محض دکھاوے کی خوبصورتی پر رقم لٹائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر میئر سکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی نئی اسکیم کی منظوری میں تقریباً تین سال لگ جاتے ہیں۔
عدالت نے انتظامیہ کے دلائل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میئر سکھر کو حکم دیا ہے کہ وہ مختلف یونین کونسلوں میں لگائے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تحریری تفصیلات اور پرانے سکھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق جامع تجاویز 25 نومبر کو عدالت کے روبرو پیش کریں۔