نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)نوشہرو فیروز کی تاریخ کے سب سے بڑے اور ہائی پروفائل ڈکیتی کا کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔تفصیلات کے
نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)نوشہرو فیروز کی تاریخ کے سب سے بڑے اور ہائی پروفائل ڈکیتی کا کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔تفصیلات کے مطابق،27 اکتوبر 2025 کی رات تقریبن ڈیڑھ بجے قومی شاہراہ پر واقع قدیمی گاؤں دھیرن میں دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں MNA ذوالفقار علی خان بھن کی آبائی حویلی میں 7 سے زائد نقاب پوش مسلح ڈاکو نقب لگا کر داخل ہوئے۔ ملزمان نے گھر والوں کو اسلحے کے زور پر یر غمال بنایا، گھر کے لاکر توڑے اور سینکڑوں تولہ سونا، نقد لاکھوں روپے اور کچھ لائسنس یافتہ اسلحہ لوٹ کر، گھر والوں کی اپنی گاڑی ریوو میں فرار ہو گئے۔خوش قسمتی سے MNA ذوالفقار علی بھن اس رات گھر پر موجود نہیں تھے۔اس واقعے کا مقدمہ گناہ نمبر 2025/99 ، دفعات 395، 458، 340 ، 149،148،506/2،343 کے تحت تھانہ درس میں درج کیا گیا۔واقعہ کے بعد صوبائی وزیر داخلہ سندھ نے فوری طور پر اس کا سختی سے نوٹس لیا۔ جبکہ IGP سندھ کراچی نے درج ذیل تجربہ کار اور مخلص پولیس افسران پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس میں 1۔ عدیل حسین چانڈیو، ایس ایس پی حیدر آباد (چیئرمین)2۔ شبیر احمد سیٹھار، ایس ایس پی شہید بینظیر آباد (میمبر)3۔ میر روحل خان کھوسو، ایس ایس پی نوشہرو فیروز (میمبر) 4۔ انسپیکٹر نیک محمد کھوسو ایس ایچ او، اے سیکشن حیدرآباد (میمبر ) 5۔ انسپیکٹر وحید علی شیخ ایس ایچ او ایئر پورٹ حیدر آباد (میمبر)06۔ انسپیکٹر امتیاز علی کھاوڑ، ایس ایچ او درس (میمبر)07۔ انسپیکٹر آغا اسد اللہ پٹھان، ایس ایچ او ٹنڈو جام (میمبر) 08۔۔۔ سب انسپیکٹر امداد علی جاگیرانی، سی آئی اے نوشہرو فیروز (میمبر) شامل تھے۔ تشکیل کردہ ٹیم نے تمام شواہد اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سندھ بھر کے اضلاع کراچی ، عمر کوٹ ، سجاول سمیت بلوچستان کے ضلعہ زوب ، KPK کے ضلعہ پشاور اور پنجاب کے اضلاع فیصل آباد ، جھنگ، پاک پتن اور وہاڑی میں کیئی مقامات پر کامیاب کاروائیان کی، اور متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی، جن کی نشاندہی پر اصل گینگ منظر عام پر آیااسی دوران گینگ کا ایک اہم رکن گرفتار کیا گیا، جس کی نشاندہی پر گینگ کے دیگر اراکین کے ٹھکانوں پر بھی چھاپے مارے گئے، جہاں سے واردات میں لوٹا گیا سامان برآمد ہوا، جس کی تفصیل درج ذیل ہےخالص سونا: 1437 گرام (119.75) تولا سون۔ نقد رقم: 53 لاکھ روپے واردات میں استعمال شدہ ٹویوٹا کرولا کارتین لائسنس یافتہ اسلحے ، دو عدد کلاشنکوف اور ایک پسٹل شامل ہیں. دوسری جانب گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا کہ واردات کے اگلے ہی روز تمام لوٹے گئے زیورات کو پگھلا کر گولڈ اسٹیکس / سونے کی پیٹیوں کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ یہ واردات ایک نہایت شاطر اور ماہر بدنام گینگ نے پیشہ ورانہ طریقے سے کی تھی، جنہوں نے جائے وقوعہ پر کوئی قابل ذکر ثبوت چھوڑنے سے گریز کیا۔ تاہم سندھ پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت کے سامنے ان کی تمام چالیں ناکام ہوئیں اور وہ جلد بے نقاب ہو گئے۔چونکہ یہ ایک بدنام زمانہ بین الصوبائی گینگ تھا جو پنجاب میں معروف سیاستدانوں، سرمایہ کاروں اور جاگیر داروں کی حویلیوں اور بنگلوں میں وارداتیں کرنے میں بدنام تھا، اس لیے ان کے منظر عام پر آنے میں پنجاب پولیس کی معاونت بھی لائق تحسین ہے۔