جاوید چوہدری نے ایکپریس کیا چھوڑا یار لوگوں نے سمجھا کہ گویا قسمت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔جاوید چوہدری سے تعلق کو تین عشرے سے زائد عرصہ گزر چکا ہے میں نےاتنا ذہین محنتی دانشمند شخص زندگی بھر نہیں دیکھا ۔ وہ سات زندگیاں گزار رہا ہے بلکہ سات زندگیوں کے مزے لے رہا ہے وہ الثر بتاتاہے کہ وہ اپنا وقت نہیں مینج کرتا اپنی انرجی مینج کرتا ہے ۔ وہ بے شمار کام کرتا ہے مگر آپ حیران ہوجائیں گے کہ وہ ہمہ وقت تروتازہ ہوتا ہے ۔ ایک دلفریب شگفتگی اور تازگی اس کی شخصیت کا مستقل احاطہ کئے رکھتی ہے برسوں سے شوگر جیسے موذی مرض کا شکار ہے مگر اس مرض سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے ۔اور بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جاوید چوہدری کی زندگی کی کامیابیوں میں شوگر نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے وہ شوگر کو جسم کی نہیں بلکہ کچن کی بیماری قرار دیتا ہے ۔ اتنی طویل رفاقت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اسے فون کیا ہو اور بات نہ ہو سکی ہو ۔ اسلام آباد جاکر اس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہو تو اس نے مصروفیت کا بہانہ بنا لیا ہو ۔ اس کی شخصیت اتنی حیرت انگیز ہے کہ تیس منٹ کی ملاقات ہو جاے تو انسان پر تیس دن کام کرنے کا دورہ پڑا رہتا ہے ۔ سچی بات ہے کہ جاوید چوہدری ایسا باکمال انسان ہے جس کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ڈکشنری میں الفاظ کم ہو جاتے ہیں ۔میں نے ایکسپریس چھوڑنے پر جاوید چوہدری کومبارکباد دی تھی ۔ کوئی بھی اسے چھوڑے دکھی ہو جاتا ہے کیونکہ اس نے زندگی میں کسی کو نہیں چھوڑا ۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب وہ خبریں میں کالم لکھتے تھے اور یہ کالم وہ امت میں بھیج دیتے تھے جہاں سے انہیں کچھ پیسے مل جاتے تھے کیونکہ خبریں سے جو ملتا تھا اس سے نہ تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا اور نہ ہی اس موٹر سائیکل کاُپٹرول پورا ہوتا تھا -جس موٹر سائیکل وہ چاے پلانے کے لئے میلوڈی لے کر گئے اور بتایا ضیا صاحب نے ان کا کالم بند کر دیا ہے اس وقت وہ دل گرفتہ تھے خبریں کی رفاقت چھوڑنے کا دکھ تھا مگر کچھ عرصہ بعد ان کا کالم روزنامہ جنگ میں آب وتاب سےشائع ہونے لگا اس کے بعد وہ ایکسپریس کا حصہ بن گئے ۔ جاوید چوہدری صاحب نے خود کسی کو نہیں چھوڑا ان کی کتاب زندگی کو دیکھتا ہوں تو سمجھ آتی ہے کہ قسمت انہیں کسی دوسرے اور بڑے سفر پر لے جانے کے لئے خود مداخلت کرتی ہے ۔ جاوید چوہدری ایکسپریس سے بہت بڑے ہیں ۔ وقت بتاے گا لوگ ایکسپریس کو بھول جائیں گے جاوید چوہدری کو یاد رکھیں گے میں نے فون کرکے انہیں کہا کہ وہ اب کچھ ایسا لکھیں جو صدیوں یاد رہے ۔ ایکسپریس نے ایکسپریس قسم کا فیصلہ کرکے انہیں فرصت دے دی ہے اور ان کی بے پناہ صلا حیتوں کی بنیاد پر ان سے یہ امید وابستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں گے کہ ان کے پڑپوتے کے احترام میں بھی لوگ اٹھ کر کھڑے ہو جائیں گےکہ یہ جاوید چوہدری کا پڑپوتا ہے
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]