9

مزاکرات ھر مسلہ کا حل ھیں۔مریدکے سے راولا کوٹ تک ۔ریاستی طاقت کا استعمال وقتی حل ھے

مزاکرات ھر مسلہ کا حل ھیں۔مریدکے سے راولا کوٹ تک ۔ریاستی طاقت کا استعمال وقتی حل ھے۔جبکہ یہ آگ برسوں دھواں چھوڑتی رھے گی۔اور آج کے حکمران سابقہ حکمرانوں کی طرح منوں مٹی کے نیچے ھوں گے۔جل سڑ رھے ھوں گے لیکن ان کی لگائی آگ آنے والوں کو جلا دے گی۔طاقت کا حل کوئی مستقل حل نہیں۔مزاکرات کریں۔مسائل حل کریں۔آپ نے ثابت کیا کہ آپ نااہل ہیں۔اپ امریکہ ایران کے درمیان بھی دیرپا امن قائم نہ کرسکے۔اور آپ اندرون ملک بھی امن قائم نہ کرسکے۔ھم نے بنگلہ دیش کی علیدگی دیکھی نہیں لیکن جو حالات سنے تھے آج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رھے ھیں کہ سیاسی سماجی معاشی اختلافات کو کس طرح گولی سے حل کیا جارھا ھے۔پاکستان اور کشمیر لازم وملزوم ھیں۔یہ نفرت کی آگ ھمیں جلا دے گی۔نفرت پھیلانے والوں سے نمٹنے کے سو طریقے تھے لیکن یہ گولی کسی مسلہ کا حل نہیں۔یہ خون جس کے منہ کو بھی لگا ھے۔وہ پاکستان اور کشمیر کا خیر خواہ نہیں۔خدا راہ عقل سے کام لیں۔یہ پاکستان 25کروڑ عوام ھے چند اداروں یا اشرافیہ کا نہیں ۔اس وقت جو نفرت میں اداروں کے خلاف دیکھ رھا ھوں شاہد ھی یہ پہلے کبھی دیکھی ھو۔اس آگ کو بجھانے کا واحد حل عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ھے نہ کہ فارم 47کی حکومت کے پاس ھے۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک عوام قربانیاں دے رھی ھے۔لیکن اشرافیہ کا پیٹ ھے کہ جہنم کا پیٹ جو بھرنے کا نام نہیں لے رہا۔بحثیت پاکستانی دل دکھی ھے۔پاکستان کے مستقبل سے کھلینے والے پاکستان کے وفادار نہیں۔صرف اقتدار کے بھوکے ھیں۔اور یہ اقتدار مزید ماہ سال چلے گا۔پھر زلت اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ھوگا۔سابقہ حکمرانوں کو جس طرح قبروں میں گالیاں پڑ رھی ھیں۔آپکو بھی پڑیں گیں۔اور عذاب میں ھر روز اضافہ ھوگا۔وقت ھے توبہ کا۔کچھ نہیں بگڑا۔اب بھی عوام کو انسان سمجھو۔بھیڑ بکری نہ سمجھو۔جس دن ان بھیڑ بکریوں نے ایکا کرلیا اس دن پھر تمھیں بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
خ ح شہزاد
دل کی بات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں