کیا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے؟
جمعرات 30 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
کیا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے؟
جی ہاں، اہل السنت والجماعت کے بنیادی اور متفقہ عقیدے کے مطابق ایمان گھٹتا اور بڑھتا یعنی کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید، احادیثِ مبارکہ اور انسان کے اپنے عملی و قلبی مشاہدے سے یہ بات مکمل طور پر ثابت ہوتی ہے۔
قرآن مجید سے دلائل:
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ایمان کے بڑھنے کا صریح ذکر موجود ہے۔
سورۃ الانفال آیت 2 میں ارشاد ہوتا ہے: مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔
سورۃ التوبہ آیت 124 میں فرمایا گیا: اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو بڑھایا؟ تو جو لوگ ایمان لائے ہیں، اس نے ان کے ایمان کو بڑھا دیا۔
سورۃ الفتح آیت 4 میں ارشاد ہے: وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت یعنی اطمینان نازل کی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور اضافہ ہو۔
احادیثِ مبارکہ سے دلائل:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی کیفیت ایک جیسی نہیں رہتی۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان کے درجات کم اور زیادہ ہوتے ہیں۔
المستدرک میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان تمہارے اندر اسی طرح پرانا یعنی کمزور ہو جاتا ہے جیسے کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، لہٰذا اللہ سے دعا مانگا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید فرمائے۔
ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کے اسباب:
علماء کرام بیان کرتے ہیں کہ ایمان کی اس تبدیلی کے پیچھے چند بنیادی محرکات ہوتے ہیں۔
ایمان بڑھنے کے اسباب:
نیک اعمال یعنی نماز، روزے، صدقہ، اور قرآن کی تلاوت سے ایمان مضبوط اور روشن ہوتا ہے۔
علمِ دین یعنی اللہ کی صفات، اس کی قدرتی نشانیوں اور دین کے علم میں اضافہ ایمان کو جلا بخشتا ہے۔
ذکرِ الٰہی اور آخرت کی یاد یعنی اللہ کا ذکر اور موت و آخرت کا سوچنا دل میں عاجزی اور ایمان بڑھاتا ہے۔
اکثر ہم کوئی نیک بات سننے کے بعد اکثر کہہ دیتے ہیں کہ واہ جی واہ
ایمان تازہ ہو گیا در اصل یہ بھی ایمان بڑھنے کی ایک نشانی ہے۔
ایمان گھٹنے کے اسباب:
گناہ اور نافرمانی کرنے سے دل پر سیاہ دھبہ لگتا ہے جس سے ایمان کی حلاوت یعنی میٹھاس اور نور کم ہو جاتا ہے۔
غفلت یعنی دین، باجماعت نماز اور اچھے ماحول سے دور رہنا۔
دنیا کی محبت میں حد سے گزر جانا اور خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کرنا۔
خلاصہ:
انسان کوئی فرشتہ نہیں ہے جس کا ایمان ایک ہی سطح پر قائم رہے۔ کبھی جب انسان نیک اعمال اور اللہ کی یاد میں مشغول ہوتا ہے تو اپنے اندر ایک خاص روحانی کیفیت، سکون اور پختگی محسوس کرتا ہے اور یہی ایمان کا بڑھنا ہے۔
جب انسان سے کوئی گناہ یا غفلت سرزد ہوتی ہے یا وہ الجھنوں اور آزمائشوں کا شکار ہوتا ہے تو دل میں بے چینی یا تذبذب محسوس ہوتا ہے اور یہ ایمان کی کمی کی علامت ہے۔
اسی لیے ہر وقت اللہ سے ثباتِ قدم، ہدایت اور ایمان کی پختگی کی دعا مانگتے رہنا چاہیے:
الدعاَء:
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک (اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ)۔
یا اللہ زود ایمان۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و ٹحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333