وفاقی محتسب کی ہدایت پر سکھر ریجنل ہیڈ سید محمود علی شاہ کی کامیاب سماعت، لاڑکانہ میں شہریوں کی 76 شکایات موقع پر ہی حل
سکھر (بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی) وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی سخت ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وفاقی محتسب سیکریٹریٹ سکھر کے ریجنل ہیڈ سید محمود علی شاہ نے لاڑکانہ سرکٹ ہاؤس میں آؤٹ ریچ سماعت کے دوران شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے کامیاب کارروائی کی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ اور شہریوں کو انصاف کی فوری فراہمی اُن کی دہلیز پر ممکن بنانا ہے۔تفصیلات کے مطابق ریجنل ہیڈ سید محمود علی شاہ نے وفاقی محتسب کے مقرر کردہ WMS قواعد و ضوابط کے مطابق مؤثر انداز میں سماعتوں کا انعقاد کیا اور موقع پر ہی یوٹیلیٹی سروسز سے متعلق متعدد شکایات کا فوری ازالہ کیا۔ اس خصوصی اجلاس کے دوران کل 76 زیرِ التواء شکایات کو نمٹایا گیا، جو فوری انتظامی ردعمل اور شفاف احتساب کی بہترین مثال ہے۔ان میں سے 62 شکایات سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) سے متعلق تھیں جبکہ 14 کیسز سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) سے وابستہ تھے۔ یہ شکایات زیادہ تر غلط بلنگ، میٹر کے تنازعات اور کنکشن میں تاخیر جیسے عوامی مسائل پر مبنی تھیں۔سید محمود علی شاہ نے سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی مختلف ایجنسیوں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی محتسب کے وژن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے مرکوز، شفاف اور جوابدہ طرزِ حکمرانی اپنائی جائے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں، انتظامی کارکردگی میں بہتری لائیں، اور بدانتظامی کے خلاف صفر رواداری کے اصول پر سختی سے عمل کریں۔اس موقع پر وفاقی ایجنسیوں کے نمائندوں نے بھرپور تعاون کیا، جسے آؤٹ ریچ سماعتوں کی کامیابی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔ ان نمائندوں میں اعجاز علی (سیپکو لاڑکانہ رورل)، سہیل احمد کھوکھر (ریونیو آفیسر، سیپکو لاڑکانہ سٹی)، سعید احمد کوریجو (ڈپٹی منیجر، ایس ایس جی سی ایل لاڑکانہ) اور ارسلان احمد (لیگل آفیسر، ایس ایس جی سی ایل لاڑکانہ) شامل تھے، جنہوں نے موقع پر ہی عوامی شکایات کے ازالے کو یقینی بنایا۔وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کی جانب سے لاڑکانہ سرکٹ ہاؤس میں آؤٹ ریچ سماعت کا کامیاب انعقاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وفاقی محتسب ادارہ انتظامی احتساب کو ہر شہری کے لیے قابلِ رسائی اور مؤثر بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔