11

*‏تمام ننھی بچیوں کی ماؤں کے نام درد بھری گزارش!* ‏خدا کے لیے جاگ جائیں!

*‏تمام ننھی بچیوں کی ماؤں کے نام درد بھری گزارش!*

‏خدا کے لیے جاگ جائیں!
‏یہ وہ زمانہ نہیں رہا جہاں ہر گلی محفوظ اور ہر چہرہ قابل اعتبار ہے۔ درندے اب جنگلوں نہیں، انسانوں کے روپ میں گلیوں میں گھوم رہے ہیں۔
‏اپنی ننھی بچیوں کو اکیلے دکان پر چیز لینے کے لیے مت بھیجیں، گلیوں اور محلوں میں بنا نگرانی کھیلنے کے لیے مت جانے دیں۔

‏شوہر کو دکان پر بھیجیں یا خود جائیں۔ آپ کی عمر 35 یا 40 سال ہے، اگر آپ خود (شدید ضرورت کو) دکان تک چلی جائیں گی (پردے کے ساتھ ) تو کوئی قیامت نہیں آ جائےگی لیکن اگر آپ کی معصوم بچی کسی درندہ صفت انسان کے ہتھے چڑھ گئی تو آپ کی پوری زندگی قیامت بن جائے گی۔!

‏اپنے بچی کی اسکول انتظامیہ کو خبردار کریں کہ جب تک ہم والدین یا ہمارا نامزد کردہ بندہ نہ آئے، ہماری بچی کو اسکول سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ بچی صرف اسی شخص کے حوالے کی جائے جس کا اندراج پہلے سے آپ نے کروا رکھا ہو۔!

‏روزانہ اپنے بچی سے بات کریں۔ اس سے پوچھیں کہ آج کیا ہوا؟ کس سے بات ہوئی؟ کون ملا؟ گارڈ نے کیا بات کی؟ ڈرائیور کیا کہہ رہا تھا؟ بچیوں کو اس بات کا عادی بنائیں کہ وہ دن بھر کی کہانی فر فر آپ کو بتائیں۔ کیونکہ خاموش بچے اکثر شکار بن جاتےہیں۔!

‏اگر آپ بچوں کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروس استعمال کرتی ہیں تو ڈرائیور کی مکمل چھان بین کریں۔ اس کا شناختی ریکارڈ، فون نمبر، گاڑی نمبر اور دیگر تفصیلات اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ اسے خبردار کریں کہ اس کی تمام معلومات متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہیں کیونکہ جب ایک شخص کو معلوم ہو کہ اس پر نظر رکھی جا رہی ہے تو اس کا دماغ درست رہتا ہے۔

‏یاد رکھیں! دنیا کا کوئی حفاظتی نظام سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتا، لیکن احتیاط غفلت سے ہزار گنا بہتر ہے۔

‏اپنے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر مت چھوڑیں۔ اپنی مصروفیات، سستی یا بے فکری کو اپنی بچیوں کی سلامتی پر ترجیح مت دیں۔ آج محتاط رہیں تاکہ کل پچھتاوے کی آگ میں نہ جلنا پڑے۔
‏اپنے بچوں کی حفاظت کریں، کیونکہ ان کی دنیا آپ ہیں، اور آپ کی دنیا وہ ہیں۔

اس تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ۔ ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں