سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی)گورنمنٹ اسلامیہ سائنس کالج سکھر کے پرنسپل کے خلاف اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے بدعنوانی، غیر منصفانہ رویے، اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ شکایتی خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پرنسپل نے ادارے میں مالی بے ضابطگیوں کے ساتھ ساتھ تدریسی عمل میں بھی غیر شفاف طریقہ کار اپنایا ہے۔ذرائع کے مطابق سکھر شہری اتحاد کے صدر کی جانب سے شکایت میں کہا گیا ہے کہ بی ایس سی ایس، بی ایس، اور انٹر کلاسز کے طلبہ سے اضافی فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، جب کہ داخلوں، امتحانی فیسوں اور دیگر مدوں میں بھی غیر قانونی وصولیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ طلبہ کے مطابق کالج انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں اضافہ کر کے ان پر مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔مزید الزام لگایا گیا ہے کہ پرنسپل کی جانب سے اساتذہ اور ملازمین کو غیر ضروری دباو¿ میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ متعدد تدریسی عملے کے ارکان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک اور غیر اخلاقی رویے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔شکایتی خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر معاملے کی شفاف انکوائری کریں، اور اگر الزامات درست ثابت ہ4وں تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]