پیر پنجال کا اوج اور پاروشنی
میں شکرگڑھ کے سرحدی قصبہ اَخلاص پور سے آگے جلالہ شریف کے ساتھ گاوۤں جو دریا کے کنارے پر آباد ہے وہاں کھڑا تھا۔ میرے سامنے دریا کے اُس پار پٹھانکوٹ اور جموں کشمیر کا پہاڑی سلسلہ شروع ہو رہا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دریائے راوی پاکستان میں داخل ہوتا ہے ۔ میرے بائیں طرف دریا اَوج آتا ہے۔ یہاں دو دریا آپس میں ملتے ہیں۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابیں رگِ وید،مہابھارت،تاریخ کے پَنوں میں اِس دریا کو اِیراوتی بولتے ہیں۔ جس کو سنسکرت میں پاروشنی کہتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ نے ،پاروشنی، پر ایک شاہکارناول بھی لکھا ہے۔جس کا نام ، بہاو، ہے۔ یہ دریا صدیوں سے ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑہ کے ایک مقام بارہ بہنگل جو کوہ ہمالیہ،پیر پنجال کے پہاڑوں میں واقع ہے۔ وہاں سے نکلتا ہے جو چھوٹے بڑے ندی نالوں سے ملکر بنتا ہے۔ اور جموں کشمیر کی خوبصورت وادیوں، اور اودھم پور، پٹھانکوٹ کے میدانوں، کھیتوں سے ہوتا ہوا ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کے سرحدی گاوۤں سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ ہند کی تقسیم سے پہلے یہ علاقہ تحصیل شکرگڑھ کہلاتا ہے جو ضلع گرداس پور کی تحصیل تھی۔ میرے سامنے ایراوتی، پاروشنی، کے پار کا دلفریب جازب نظرپہاڑی خطہ پٹھانکوٹ کہلاتا ہے۔ یہ تب گرداس پور کی تحصیل تھی۔ اس زمانے میں گرداس پور چار تحصیلوں پر مشتمل تھا،بٹالہ، گرداسپور، پٹھانکوت، شکرگڑھ ، یہاں میرے آباوٓ اجداد کا گاوٓں تھا۔ جو تحصیل بٹالہ میں تھا۔ جو تقسیم کے وقت اپنا سارا کچھ چھوڑ کر تقسیم کے دُکھ سے گزرے تھے۔ وہ سیالکوٹ میں نالہ ڈیک کے کنارے چھوٹے سے گاوۤں میں آباد ہوگئے تھے۔ میرے دادا ساری عمر اپنے گاوۤں، گھر، بٹالہ،گرداس پور،پٹھانکوت،امرتسر کو یاد کرتے تھے۔ جو مجھے ہندوستان کے شہروں ،گرداس پور، دہلی،کلکتہ،رنگون، اور برما کے جنگلوں کی کہانیاں سناتا تھا۔ وہ دل میں ایک ہڑک لے کر دنیا سے چلا گیا کہ شاید وہ دوبارہ کبھی اپنے آبائی گھر،گاوں،لوگوں کو نہیں دیکھ سکے گا جن کو روتا چھوڑکر روتے ہوئے آئے تھے۔ میرا دادا بتاتے تھے کہ گرداس پور پہلے پاکستان میں شامل کر رہے تھے پھرانگریز سرکار نے ملی بھگت سے راتوں رات اس کو انڈیا میں شامل کردیا۔ اس ضلع کی ایک تحصیل دریا کی دوسری طرف تھی اس کو پاکستان میں شامل کر دیا اور دریائے راوی کو لکیر کینھچ کرسرحد بنا دیا گیا۔ جس جگہ میں کھڑا تھا وہاں پانی کا بہاوۤ تیز تھا جو دریا کے بند کو کاٹ رہا تھا۔ میرے دائیں ہاتھ جدھردریا جا رہا تھا۔ اُس جانب پاکستان کا پہلا اور آخری سرحدی قصبہ کوٹ نیناں ہے۔اِس کے بایئں جانب اَخلاص پور کا خوبصورت قدرتی جنگل آباد ہے۔ جس میں قدرتی حشرات،مور،تیتر،جنگلی کبوتر،ہرن،نیل گائے،چیتے،شیر وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ جوجنگل کی خوبصورتی کو جنگل بنا دیتے ہیں۔ یہ جنگل پٹھانکوت،جموں کشمیر کے پہاڑوں کی اترائیوں میں سرحد پر واقع ہے۔ یہاں پر ایک چھوٹا سا گاوۤں،گھروٹہ،عنایت پور،بھائی پور واقع ہے۔ جہاں سے پاکستان کا سٹینڈرڈ ٹائم لیا جاتا ہے۔ اِس مقام کو پاکستان میں اُگتے سورج کی سرزمین بولا جاتا ہے۔ جس کے ساتھ اونچے ٹیلے پر پاکستان کا سرحدی قصبہ بڑا بھائی مسرور صدیوں سے شاد و آباد ہے۔ جہاں برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت، صوفی ولی اللہ خواجہ عبدالسلام چشتی کا مزار دریائے اوج کے کنارے ایک ٹیلے پر واقع ہے۔اب یہ چھوٹا دریا وہاں سے تھورا پیچھے ہٹ گیا ہے۔ جو سرحدی لائن ہے۔ یہ چھوٹا دریا جموں کشمیر کے ایک مقام کیلاش سے نکلتا ہے۔ جو سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے نیناں کوٹ کے مقام پر دریائے راوی میں مل جاتا ہے۔ اس مزار پر ہر سال تین دن میلہ لگتا ہے۔ جہاں دورنزدیک سے لوگ حاضری دینے آتے ہیں۔اسی دربار کے پاس ٹیوب ویل لگے ہوئے ہیں۔ جن سے قدرتی چشموں کا پانی ابلتا ہے۔ جن سے بغیر کسی موٹر،انجن،پمپ کے پانی خود بخود زمین سے نکلتا رہتا ہے۔ جو خوبصورت دلفریب نظارہ بنا دیتے ہیں۔ یہ پہاڑوں کی خوبصورت اترائیاں، اترائیوں سے پھوٹتےمیٹھے پانی کے چشمے، راوی اور اَوج کے خوبصورت پانیوں نے اس خطہ زمین کو جنت کا ٹکڑا بنا دیا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف میلوں ہریالی ہی ہریالی،لہلاتی سرسبز فصلیں ماحول کو خوبصورت بنا دیتی ہیں۔ یہاں پر دھان، گندم،باجرہ،کماد،آلو،مٹرکی فصل زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں سے لاہور تک دریائے راوی سرحدی لکیر کا کام دیتا ہے۔ جو کبھی پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے تو کبھی انڈیا میں ۔ یہ پارٹیشن ایوارڈ کے چیرمین سرسڈنی ریڈ کلف نے تقسیم کرتے ہوئے اسی پاروشنی کو بارڈر لائن ڈیکلیئر کر دیا تھا۔ یہاں نیناں کوٹ کے سامنے دریا کے پار جنوب میں تقریبا بارہ سے چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر گرداس پور کا شہر ہے۔ اس کے بعد قصبہ بارہ منگا سے آگے مغرب میں دریائے راوی کے کنارے نیچے جاکر 1965 کی جنگ والے جسڑ کے محاز سے زرا پہلے کرتارپور کوریڈور کا مقام ہے۔ جہاں سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا گرو نانک جی کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس مقام پر کشمیر سے آنے والا نالہ بہیں جو انڈیا پاکستان بارڈر چک اَمرو سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ جو یہاں دریائے راوی میں مل جاتا ہے۔ یہاں پر گردوارہ دربارصاحب بابا گرونانک جی ہے ۔ جہاں ہر سال دنیا بھر سےلاکھوں زائرین اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے آتے ہیں۔ اِس مقام پرانڈیا بارڈر پر کوریڈور کھولا گیا ہے جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سکھ مت کے پیروکاربغیر ویزہ گردوارہ کرتارپور پر مذہبی رسومات ادا کرنے آتے ہیں جو شام سے پہلے واپس چلے جاتے ہیں۔ اس دربار کے سامنے انڈیا میں ڈیرہ بابا نانک نامی چھوٹا سا شہر آباد ہے جہاں سے سیدھی سڑک گردوارہ گولڈن ٹیمپل امرتسر شہر کو جاتی ہے۔اس مقام پر تقسیم سے پہلے پاکستان کی طرف واقع جنکشن جسڑ ریلوے اسٹیشن سے ریلوے لائن اورسڑک انڈیا کے شہر امرتسر تک جاتی تھیں۔جو 1965ء کی جنگ میں دریائے راوی پرموجود پل تباہ ہونے کی بنا پر آمد و رفت کا سلسلہ بند ہوگیا۔ جوصدیوں سے انسانی گزر گاہ تھی وہ ہمیشہ کے لیئے ختم ہوگئی۔ اس میں کسی کا کچھ گیا یا نہین گیا راستہ اُجڑ کر ویران ہو گیا۔ یہاں ایک نالہ بسنتر ہے جو کشمیر سے آتا ہے اور انڈیا بارڈر پر ایک قصبہ ڈیلرہ کے قریب سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔جو بڑا پنڈ جرپال،چوڑا شریف،نڈالہ سلہریاں،کنجروڑ کے پاس سے گزرتے ہوئے جسڑ کے مقام پر دریائے راوی میں مل جاتا ہے۔ پاروشنی یا راوی یہاں سے نارووال،رعیہ خاص،بدوملہی، نارنگ منڈی کے جنوب مشرق کی طرف سے گزرتا ہے۔ یہاں رعیہ خاص کے قریب راوی کنارے آباد ایک گاوۤں تھرپال میں پنجابی زبان کے عظیم شاعر ہاشم شاہ کا مزار بھی ہے۔ اسی مقام پر دریائے چناب ہیڈ مرالہ سے نکلنے والی مرالہ راوی لنک کینال دریائے راوی میں مل جاتی ہے۔ دوسری نہر بی آر بی ہیڈ مرالہ سے نکل کر آتی ہے یہاں سے راوی کو نیچے سے کراس کرتی ہے۔ راوی یہاں سے لاہور پہنچ جاتا ہے۔راوی اورلاہور کی محبت کی کہانیاں تاریخ کے پَنوں میں اے حمید، جوگندر پال اشک،مستنصرحسین تارڑ،اشفاق احمد نے انڈیل کر ہمیشہ کے لیئے امر کردی ہیں۔ یہاں سے لاہور کو الوداع کہتے ہوئے راوی اپنا سفر جاری رکھتا ہے ننکانہ صاحب،سید والا کے پاس سے گزرتا ہے۔ یہاں پرجموں کشمیر سے نکلنے والا نالہ ڈیک انڈیا کے شہر سامبا سے نکلتے ہوئے ظفروال سے پاکستان مین داخل ہوتا ہے۔ جو کئی اضلاع کے کھیتوں کی پیاس بجھاتے سید والا کے مقام پر دریائے راوی میں آ گرتا ہے۔ اِس کے بعد راوی،اوکاڑہ ، ساہیوال کے علاقوں کو سیراب کرتے ہوئے چیچہ وطنی اور کمالیہ کے درمیان سے ہوتے ہوئے کبیروالا کے پاس سے گزرتا ہے۔ اردو زبان و ادب میں جدید لہجے کی شاعرہ کومل جوئیہ بھی راوی کی وسنیک ہیں۔ جو کبیر والا سے ہیں۔ راوی کومل جوئیہ کی شاعری سنتے سفر کرتے ہوئے احمد پور سیال کے قریب دریائے چناب اور جہلم کے پانیوں میں مل جاتا ہے۔راوی بتانا چاہتا ہے کہ ملنا ہی زندگی ہے۔
شاہد محمود سیالکوٹ
22/10/2025