30

تھینک یو کرنل عمر*(ماہرنفسیات) جواں سال ایس پی اسلام آباد عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر سے آج کے اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھرے ہوئے ہیں ۔ دل بہت رنجیدہ ہے ۔

*تھینک یو کرنل عمر*(ماہرنفسیات)
جواں سال ایس پی اسلام آباد عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر سے آج کے اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھرے ہوئے ہیں ۔ دل بہت رنجیدہ ہے ۔ بہت رنجیدہ اور مجھے آج پھر سے اپنے کمانڈنٹ کرنل مراد خان نیر کی دروش میں 3 اگست 1989 کی خودکشی یاد آگئی ۔ کیسے کیسے ہیرے لوگ ڈیپریشن میں اپنے ہاتھوں اپنی جان لیتے ہیں ۔
شاید ہم میں اتنی سمجھ بوجھ ہی نہیں ہوتی کہ ہم اپنے ارد گرد چلتے پھرتے بظاہر تندرست انسانوں کی پریشانیوں پر توجہ دے سکیں ۔
کپتانی کے زمانے میں مجھ میں بھی سمجھ بوجھ ایسی نہ تھی کہ میں کرنل مراد خان نیر کی گفتگو سے یہ اندازہ لگا سکتا کہ انکے دماغ میں آخر چل کیا رہا ہے ۔
وہ پوچھتے تھے کہ
*چلو بھئی بتاؤ انسان کی ایسی کون سی موت ہے جس میں اسے مرتے دم سب سے کم تکلیف ہو*
پھر کہتے
*اس معاشرے میں ریٹائرڈ لوگوں کی کوئی عزت نہیں کرتا پھر انہیں تو مر جانا چاہئے*
اور میں تو اس وقت بہت ناسمجھ تھا ۔ کاش سمجھ پاتا ۔ ان کی ملاقات کسی ماہر نفسیات سے کرواتا ۔ کاش وہ خود کشی جیسے انتہائی قدم سے بچ جاتے ۔ اب تو صرف پچھتاوا ہے ۔
ہم *برگیڈئیربشیرفاؤنڈیشن* کے پرچم تلے جو بھی توفیق ہے بھلے کے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ نام ہمارا ہوتا ہے مگر کچھ ہمارے گمنام ہیرو بھی ہیں جو چپ چاپ انسانوں کے کام آتے ہیں ۔
ہم کو خود ، ہمارے گھر میں کسی فرد کو ، ہمارے کسی بچے کو اگر کوئی نفسیاتی مسلہ ہے تو ہم سب سے چھپاتے ہیں ۔ قریبی رشتہ داروں سے بھی چھپاتے ہیں ۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر کے پاس جانے سے کتراتے ہیں ۔ انہیں پاگلوں کا ڈاکٹر سمجھتے ہیں اور کہتے بھی ہیں ۔ نفسیاتی کلینک پر جانا معاشرے میں دھبہ سمجھا جاتا ہے ۔ خاص طور پر بچوں کو اس بات پر راضی کرنا کہ نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جانا ہے جوئے شیر لانے سے کم نہیں ۔
ہمیں بس پتہ چلنا چاہئے ۔ پھر ہم ایسے لوگوں کو ایسے بچوں کو فون کرتے ہیں کہ ہم چیئرٹی کے کام کرتے ہیں آپ ہمارے آفس آئیں چائے پیئں اور ہمیں اچھے مشورے دیں کہ اس کام میں مزید کس طرح بہتری لائیں ۔
وہ خوشی خوشی آتے ہیں اور پھر چائے پر ملاقات ہوتی ہے ریٹائرڈ کرنل عمر سائکاٹرسٹ (شہر کے بہترین ماہر نفسیات سے)
نہ کسی کو بتانے کی ضرورت ہے نہ کسی کو پتہ چلتا ہے اور ڈیپریشن کا علاج شروع ہوجاتا ہے ۔ اس طرح آنے والے بچے یا لوگ ہمیں چیئرٹی کے نئے طریقے بتاتے ہیں اور *کرنل عمر انکے دوست بن کر انکے دل کو ٹٹول لیتے ہیں اور پھر علاج شروع ہوجاتا ہے* ۔
ہمیں ہر شہر میں ہر قصبے میں ہاسپیٹل سے باہر ایک کپ چائے پر بات کرنے والے ماہر نفسیات ڈاکٹرز کی اب بہت ضرورت ہے ۔ *کیا پتہ ہم اگلے کسی کرنل مراد خان نیئر یا ایس پی عدیل اکبر کو ایک کپ چائے پلا کر خودکشی سے بچا لیں* ۔
آپکی نظر میں ایسا کوئی شخص یا بچہ ہو تو ہم سے رابطہ کروا دیں ۔ *باقی کام ہمارے گمنام ہیرو کریں گے*۔ ‏
*BrigBashirFoundation*
‏House No. 25 A Block E Gulshan e Jamal Karachi
‏Mobile. 03000300098

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں