ٹوٹل اور پارکو (پاک عرب ریفائنری) کا جوائنٹ وینچر پاکستان میں کافی کامیاب تھا اور تھوڑے ہی عرصے میں 800 سروس سٹیشنز کے ساتھ پاکستان کا دوسرا بڑا نیٹ ورک بن گیا۔
ٹوٹل اور پارکو (پاک عرب ریفائنری) کا جوائنٹ وینچر پاکستان میں کافی کامیاب تھا اور تھوڑے ہی عرصے میں 800 سروس سٹیشنز کے ساتھ پاکستان کا دوسرا بڑا نیٹ ورک بن گیا۔
اسے لیکن پچھلے چند برسوں سے ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شمگل شدہ ایرانی پٹرول کو پارکو کے ذریعے ٹوٹل کے سروس سٹیشنز پر بیچا جاتا تھا جو کہ فرنچ کمپنی ٹوٹل کے قواعد کے خلاف تھا۔
یہ کشمکشن چوبیس ماہ سے جاری تھی، بالآخر ٹوٹل نے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے شئیر ” گن ور” نامی انرجی ٹریڈنگ فرم کو بیچ کر پاکستان سے زندہ بھاگ رہی ہے۔
گن ور، شیل، ایگزون، ٹوٹل وغیرہ کے برعکس نہ تو کوئی ڈاؤن سٹریم آئل کمپنی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ڈسٹری بیوشن کا پروفائل ہے۔ یہ دنیا کی بدنام زمانہ کموڈیٹی ٹریڈنگ فرم ہے جو 2000 میں قائم ہوئی اور آئے دن کسی نہ کسی ملک میں اس کے خلاف کرپٹ پریکٹسز کا کوئی نہ کوئی مقدمہ چل رہا ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں اس نے امریکہ میں ساڑھے تین سو ملین ڈالرز کی سیٹلمنٹ کی ہے۔
گن ور پاکستان میں ٹوٹل کے شئیر کیوں خریدنے پر رضامند ہوئی؟ وجہ صاف ظاہر ہے۔ حرام پریکٹسز کے جو مواقع یہاں میسر ہیں، وہ کسی کافر ملک میں کہاں دستیاب ہوں گے۔
ایک اور ملٹی نیشنل کمپنی پاکستان سے بھاگ گئی۔
ایک اور کرپٹ مافیا پاکستان میں آگیا۔