عطائی ڈاکٹر بلال انسانی جانوں کا دشمن – محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن خوابِ غفلت
عطائی ڈاکٹر بلال انسانی جانوں کا دشمن – محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن خوابِ غفلت میں!21/5/2025کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے تھانہ بٹالہ کالونی فیصل اباد میں عطائی ڈینٹسٹ کے خلافfir مقدمہ نمبر 894/25رجسٹرڈ کروائی اور اس کا کلینک بھی سیل کیا عطائی ڈینٹسٹ بلال نے خود ساختہ اپنا کلینک ڈی سیل کیا پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا
فیصل آباد
— پنجاب حکومت کو للکارتے ہوئے اقبال ٹاؤن پیپلز کالونی نمبر 2 نزد غوثیہ چوک میں قائم بلال ڈینٹل کلینک انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کا کھلا دھندہ کر رہا ہے۔ عطائی ڈاکٹر محمد بلال، جو خود کو “بی ڈی ایس” ڈاکٹر ظاہر کرتا ہے، درحقیقت میٹرک کی ڈگری کا بھی حامل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود نہ صرف عوام کو دھوکہ دے رہا ہے بلکہ انہیں خطرناک بیماریوں کے دہانے پر بھی دھکیل رہا ہے۔
ہیپاٹائٹس اور ایڈز پھیلانے کا اڈہ
کلینک میں دانتوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے آلات ایک ہی بار بار مریضوں پر استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے ہیپاٹائٹس، ایڈز اور دیگر موذی امراض تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عطائی ڈاکٹر بلال مریضوں کو اپنی عقل کے مطابق دوائیاں تجویز کرتا ہے اور کلینک میں رکھی گئی غیر معیاری اور زائد المیعاد ادویات استعمال کر کے لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہا ہے۔
محکمہ صحت کی مجرمانہ خاموشی
اہل علاقہ کے مطابق یہ صورتحال کسی المیے سے کم نہیں لیکن ڈی ڈی ایچ او ہیلتھ فیصل آباد اس پر مکمل خاموش ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ڈی ڈی ایچ او مذکورہ عطائی سے باقاعدہ منتھلی وصول کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلال ڈینٹل کلینک کو سیل کرنے کے بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی یہ چشم پوشی عوام کی زندگیوں سے کھلی کھلی دشمنی ہے۔
ذمہ دار اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ
اہل علاقہ نے سخت الفاظ میں ڈپٹی کمشنر فیصل آباد، ، پنجاب ہیلتھ کیئر سے مطالبہ کیا ہے کہ:
بلال ڈینٹل کلینک کو فوری طور پر سیل کیا جائے۔
عطائی ڈاکٹر محمد بلال کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
محکمہ صحت میں موجود ان افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جو رشوت لے کر انسانی جانوں سے کھیلنے والے عطائیوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
عوام کا سوال: آخر کب تک انسانی جانیں یوں رسوا ہوں گی؟
فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں عطائیوں کی کھلی لوٹ مار نہ صرف محکمہ صحت کی ناکامی ہے بلکہ عوامی صحت کے ساتھ کھلا مذاق بھی ہے۔ اگر اس مجرمانہ غفلت پر فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ صورتحال کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔