October 28, 2026

لاپتہ افراد بارے ریاست کی ذمہ داری میں تبدیلی

Screenshot_2025-09-22_192307

لاپتہ افراد بارے ریاست کی ذمہ داری میں تبدیلی

بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ برسوں سے انسانی حقوق اور ریاستی سلامتی کے درمیان جھولتا رہا
کبھی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے تو کبھی احتجاجی کیمپ آباد ہوئے
اور کبھی یہ بیانیہ دہشت گردی کے ایجنڈے کا ایندھن بنتا رہا
اب صوبائی حکومت نے وہ قدم اٹھا لیا ہے جس نے کھیل کے سارے قواعد بدل دیے ہیں اور خودساختہ گمشدہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو پیچیدگی ہو گی اور یو ریاست پر بنا فرض بھی ادا ہوتا رہے گا

محکمۂ داخلہ کے تازہ اعلامیہ کے مطابق اگر کوئی شہری یا خاندان اپنے عزیز کی گمشدگی کی اطلاع سات دن کے اندر نہ دے تو قانون کی نظر میں وہ “معاون دہشت گرد شمار ہوگا
اس سے قبل کئی کئی سال کے گمشدہ کی ایف آئی آر درج کروا کر شور ڈالا جاتا تھا وہ بندہ آخر کسی دہشت گرد تنظیم کے جھنڈے تلے مارا جاتا تھا اور مفت میں ریاست کو بدنامی ملتی تھی
اب سوال صرف یہ نہیں کہ کون غائب ہوا بلکہ یہ بھی کہ ہو گا کہ گھر والوں نے خاموشی کیوں اختیار کی تھی کیا وجہ تھی سالہا سال سے لاپتہ بارے اب اچانک سے ریاست کے باغی بن کر سڑکوں پر آنا پڑا؟ آخر اتنے سالوں مہینوں سے خاموشی کیوں تھی ؟

یہی وہ ریاستی کمزوری تھی جس پر بی ایل اے جیسے گروہ برسوں پلتے رہے اور جبری گمشدگی کا نعرہ لگایا جاتا تھا اور پھر وہی نوجوان فیس بُک پر کلاشنکوف تھامے نظر آتا تھا
بی وائی سی جیسے سیاسی نقاب پوش دہشت گرد گروہ ان کہانیوں کو گڑھ کر ریاستی اداروں پر انگلیاں اٹھاتے رہے اور پاکستان کو بدنام کرتے رہے
حالیہ سال جعفر آباد ایکسپریس کے ہائی جیک واقعہ کے بعد ان کی پراسرار خاموشی نے خود ان کی نیت کو بے نقاب کیا اور کئی لاپتہ افراد اس ہائی جیکنگ میں ملوث پائے گئے جنہںں قانون کے کٹہرے میں لایا گیا
نیز اب اگر کوئی خودساختہ لاپتہ شحض اگر کل کو کسی دہشت گرودں کے پہاڑی کیمپ سے زندہ یا مردہ برآمد ہوا تو خاندان کو جائیداد ضبطگی، ملازمت سے برطرفی اور مراعات کی منسوخی کا سامنا ہو گا
یہ صرف سزا نہیں بلکہ ایک نئی لکیر ہے جو ریاست نے “خاموشی اور “شکایت کے درمیان کھینچ دی گئی ہے
بظاہر یہ ایک اعلان ہے مگر درحقیقت یہ
Anti-Terrorism (Balochistan Amendment)
Act 2025
کی ہے۔ جس کے تحت تین ماہ تک حراست، ایف آئی آر کے بغیر پیشی اور معاونِ دہشت گرد کے خلاف فوری ٹرائل ہو گا

ریاست کا مؤقف صاف ہے کہ اطلاع دینے والا قانونی تحفظ اور مالی معاونت پائے گا جبکہ خاموش رہنے والا قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہو گا
#قصوریات