لاپتہ افراد بارے ریاست کی ذمہ داری میں تبدیلی
لاپتہ افراد بارے ریاست کی ذمہ داری میں تبدیلی
بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ برسوں سے انسانی حقوق اور ریاستی سلامتی کے درمیان جھولتا رہا
کبھی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے تو کبھی احتجاجی کیمپ آباد ہوئے
اور کبھی یہ بیانیہ دہشت گردی کے ایجنڈے کا ایندھن بنتا رہا
اب صوبائی حکومت نے وہ قدم اٹھا لیا ہے جس نے کھیل کے سارے قواعد بدل دیے ہیں اور خودساختہ گمشدہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو پیچیدگی ہو گی اور یو ریاست پر بنا فرض بھی ادا ہوتا رہے گا
محکمۂ داخلہ کے تازہ اعلامیہ کے مطابق اگر کوئی شہری یا خاندان اپنے عزیز کی گمشدگی کی اطلاع سات دن کے اندر نہ دے تو قانون کی نظر میں وہ “معاون دہشت گرد شمار ہوگا
اس سے قبل کئی کئی سال کے گمشدہ کی ایف آئی آر درج کروا کر شور ڈالا جاتا تھا وہ بندہ آخر کسی دہشت گرد تنظیم کے جھنڈے تلے مارا جاتا تھا اور مفت میں ریاست کو بدنامی ملتی تھی
اب سوال صرف یہ نہیں کہ کون غائب ہوا بلکہ یہ بھی کہ ہو گا کہ گھر والوں نے خاموشی کیوں اختیار کی تھی کیا وجہ تھی سالہا سال سے لاپتہ بارے اب اچانک سے ریاست کے باغی بن کر سڑکوں پر آنا پڑا؟ آخر اتنے سالوں مہینوں سے خاموشی کیوں تھی ؟
یہی وہ ریاستی کمزوری تھی جس پر بی ایل اے جیسے گروہ برسوں پلتے رہے اور جبری گمشدگی کا نعرہ لگایا جاتا تھا اور پھر وہی نوجوان فیس بُک پر کلاشنکوف تھامے نظر آتا تھا
بی وائی سی جیسے سیاسی نقاب پوش دہشت گرد گروہ ان کہانیوں کو گڑھ کر ریاستی اداروں پر انگلیاں اٹھاتے رہے اور پاکستان کو بدنام کرتے رہے
حالیہ سال جعفر آباد ایکسپریس کے ہائی جیک واقعہ کے بعد ان کی پراسرار خاموشی نے خود ان کی نیت کو بے نقاب کیا اور کئی لاپتہ افراد اس ہائی جیکنگ میں ملوث پائے گئے جنہںں قانون کے کٹہرے میں لایا گیا
نیز اب اگر کوئی خودساختہ لاپتہ شحض اگر کل کو کسی دہشت گرودں کے پہاڑی کیمپ سے زندہ یا مردہ برآمد ہوا تو خاندان کو جائیداد ضبطگی، ملازمت سے برطرفی اور مراعات کی منسوخی کا سامنا ہو گا
یہ صرف سزا نہیں بلکہ ایک نئی لکیر ہے جو ریاست نے “خاموشی اور “شکایت کے درمیان کھینچ دی گئی ہے
بظاہر یہ ایک اعلان ہے مگر درحقیقت یہ
Anti-Terrorism (Balochistan Amendment)
Act 2025
کی ہے۔ جس کے تحت تین ماہ تک حراست، ایف آئی آر کے بغیر پیشی اور معاونِ دہشت گرد کے خلاف فوری ٹرائل ہو گا
ریاست کا مؤقف صاف ہے کہ اطلاع دینے والا قانونی تحفظ اور مالی معاونت پائے گا جبکہ خاموش رہنے والا قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہو گا
#قصوریات