October 28, 2026

مصنف سلیم اشرف صاحب کی کتاب* *”کہانی تیری قلم میری” ایک عمدہ کاوش* *ازقلم : اشفاق نیاز*

IMG-20250922-WA0208(1)

*مصنف سلیم اشرف صاحب کی کتاب*
*”کہانی تیری قلم میری” ایک عمدہ کاوش*
*ازقلم : اشفاق نیاز*
کہتے ہیں کہ معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم رکھنے ،ظلم ، زیادتی اور حق تلفی کو روکنے میں پولیس کا کردار بہت نمایاں ہے ۔ ظالم کو ظلم سے روکنا نہ صرف مظلوم کی مدد کرنا ہے بلکہ معاشرے میں برائی ،ظلم اور زیادتی کے خلاف جہاد کرنا بھی ایک عظیم کارنامہ ہے۔اسی جذبہ سے سرشار ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست جناب انسپکٹر شاہد محمود صاحب ہیں جو اپنی فرض شناسی کے حوالے سے مقبول تو ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اندر ایک انتہائی خوبصورت ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں۔میں ان کا ذکر اس لیے نہیں کر رہا کہ وہ محکمہ پولیس میں بطور انسپکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ میں یہاں پر ان کی ادب دوستی کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ وہ اہل قلم اور کتابوں سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں ، علم دوست ، ادب شناس اور ادب پرور ہیں ۔پچھلے دنوں ان کی کال آئی کہ وہ مجھے ملنا چاہتے ہیں اور ایک کتاب گفٹ کی صورت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا جی بسم اللہ ضرور تشریف لایئے ۔میرے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ کوئی ادب دوست چل کر میرے شہر اور علاقہ میں تشریف لائے ۔چنانچہ وہ گزشتہ دنوں شہاب پورہ سیالکوٹ تشریف لائے اور انتہائی خلوص اور محبت کے ساتھ مصنف سلیم اشرف صاحب کی کتاب (کہانی تیری قلم میری) پیش کی ۔ مذکورہ کتاب میں تاریخ کے مختلف عظیم کرداروں کو نہایت خوبصورت انداز میں نمایاں کیا گیا ہے جس سے ان کی جدوجہد، عظیم قربانیوں اور عظمت و کردار کا پتہ چلتا ہے۔اسی کتاب کے صفحہ 19 اور 20 پر کہانی بھگت سنگھ سے کچھ سطور پیش خدمت ہیں بھگت سنگھ کی چتا انگریز سرکار نے خوف کے مارے رات کے اندھیرے میں دریائے ستلج کے کنارے حسینی والا کے مقام پر جلائی اور چاہا کہ اُس کا نام و نشان مٹا دیا جائے لیکن وہی نام آج اس خطہ کے طول و عرض میں کہیں پتھر اور کہیں نعرہ بن کر انہیں سامراجی قوتوں کے گماشتوں کے سامنے کھڑا ہے۔ بھگت سنگھ نے بتا دیا کہ زندگی لمبی نہیں بڑی ہونی چاہیے وہ پچیس سالوں میں صدیاں جی گیا ۔ ساندل بار کی مٹی نے ہمیشہ سورماؤں کو جنم دیا ہے جنہوں نے ہر رنگ میں کسی نہ کسی جابر کے سامنے کلمہ حق لازمی کہا ہے کبھی رائے احمد خان کھرل کی شکل میں اور کہیں دلا بھٹی کی شکل میں تو کہیں نظام لوہار اور ملنگی کی صورت ۔ یہ وہ کہانی ہے جو خضر نے سنائی ہے جب راقم بھگت سنگھ کی جائے پیدائش کی زیارت کرنے گیا تھا۔ یہ مٹی اپنے ان بہادر بیٹوں پر جتنا فخر کرے کم ہے اُن کے گاؤں سے نکلتے وقت میرا سارا دھیان سکیل سے کھینچی گئی سیدھی لکیر کی مانند ساندل بار کے بہادر قبیلے کے دانشور شاعر رائے محمد خان ناصر کی اُس نظم پر تھا جو انہوں نے بھگت سنگھ کے حوالے سے کہی۔

ساندل بار نوں مونہہ تے لے آ
بھاویں اس توں سو نہہ چوا لا
ساندل بار نوں مڑ نہ لدھا
بھیں کے راٹھ اجیہا جیہڑا
کالے کٹ ہنیر دی ہک تے
بال کے ڈیوا منگ دلداہا
ڈیوا لہو دے بھاء بلدا با

ساندل بارنوں مونہہ تے لے آ سونہہ چوا لا میتھوں بھاویں منگ دلدا ہا بال کے ڈیوا
منگ دا دلنا، ڈیوا بلنا
مطلب رات اے، کدھرے آس اے

ساندل بارے! آس کدے ای راٹھاں آلی راس کدے ای
جمدیاں ہا ہنی راٹھ جو ماواں کرے گئیاں اوہ ٹھڈھیاں چھاواں
ہیٹھ جنہاندے پلدے راٹھ ہائے ڈیوے بال کے بلدے راٹھ جائے مڑ ہک احمد خاں لیا دے
بھگت لیا، بلیاں لیا دے
وہ لکھتے ہیں کہ
کہانی وہ نہیں جسے چھپایا جائے ، کہانی تو وہ ہے جسے بتایا ، سنایا اور پڑھایا جائے تا کہ نسل در نسل منتقل ہوتی رہے ۔ یہ کائنات خود ایک کہانی ہے جو مختلف مقامات پر مختلف کرداروں اور پلاٹوں کے ساتھ چل رہی ہے ، مگر ہے یہ کہانی ہی ، اور ایسی عجیب کہانی کہ جس کا سب سے اہم کردار قدرت اور انسان تو ہمارے سامنے ہیں لیکن اس کا مصنف کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ سو کہانی انسان کی سرشت میں ہے۔
اسی طرح مذکورہ کتاب میں بہت سے موضوعات مثلا جھومر ،فرشتہ ،ضد ،سرچ لائٹ اپریشن، غدار ،سرمد، رشوت، شہزادی کا بنا قالین، سویرا، بچہ ،کرونا ،بدمعاش، انڈے، مرغی، دولت کہانی، دوست، کالا گورا، ریل بستی اور ڈاکیا قابل ذکر ہیں ۔
میں انسپکٹر جناب شاہد محمود صاحب کا صمیم قلب سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے خوبصورت گفٹ کتابی صورت میں پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔

اشفاق نیاز
مؤلف تاریخ سیالکوٹ
صدرِ شعبہ اردو
پنجاب کالج سٹی ہاؤسنگ کیمپس سیالکوٹ