“ہنر کا پاسپورٹ اور دولت کا دروازہ”
“ہنر کا پاسپورٹ اور دولت کا دروازہ”
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو چونکا دیا ہے۔ امریکا میں H-1B ویزے پر سالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا اعلان محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک نئی عالمی پالیسی کی جھلک ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری اپنے ماہرین کے لیے امریکا پر انحصار کرتی ہے۔ خاص طور پر بھارتی انجینئرز، سائنسدان اور آئی ٹی پروفیشنلز اس پروگرام کا بڑا سہارا ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کے عالمی اثرات کیا ہوں گے، اور پاکستان کے لیے اس کے کیا مضمرات ہیں؟
امریکا میں ہر سال 85 ہزار نئے H-1B ویزے جاری ہوتے ہیں، جن میں تین چوتھائی بھارتی ماہرین کو ملتے ہیں۔ بھارتی آئی ٹی انڈسٹری اسی بنیاد پر دنیا بھر میں اپنا سکہ منواتی ہے۔ لیکن اب جب ہر ویزہ ایک لاکھ ڈالر کا ہو جائے گا، تو یہ سہولت صرف امیر کمپنیوں اور کارپوریٹ دیو ہیکل اداروں کے لیے رہ جائے گی۔ غریب اور درمیانے درجے کی کمپنیاں اس دوڑ سے باہر ہو جائیں گی۔
پاکستانی نقطۂ نظر سے یہ فیصلہ ایک موقع بھی ہے اور ایک خطرہ بھی۔ موقع اس لیے کہ بھارت کی اجارہ داری کمزور ہو سکتی ہے۔ وہ کمپنیاں جو کم لاگت پر ہنر مند تلاش کرنا چاہتی ہیں، وہ متبادل مارکیٹوں کی طرف دیکھیں گی۔ اگر پاکستان اپنی آئی ٹی انڈسٹری، اپنی ٹیکنیکل ایجوکیشن اور اپنے نوجوانوں کو بروقت تیار کر لے، تو ہم اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسر کمیونٹی ہے، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ریاستی سطح پر اس کو پالیسی سپورٹ حاصل نہیں۔
خطرہ اس لیے ہے کہ پاکستان کے وہ نوجوان جو H-1B کے ذریعے امریکا جانا چاہتے تھے، ان کے خواب مزید مہنگے اور مشکل ہو جائیں گے۔ ہمارا متوسط طبقہ، جو پہلے ہی تعلیمی اخراجات اور ویزہ فیسوں کی رکاوٹوں سے نبرد آزما ہے، اب اس نئی شرط کے بعد مزید پس جائے گا۔
ٹرمپ کا متعارف کردہ “گولڈ کارڈ” پروگرام اس فلسفے کی انتہا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک ملین ڈالر ہیں تو امریکا کے دروازے کھل جائیں گے۔ یہ دراصل یہ پیغام ہے کہ ہنر سے زیادہ دولت کی قدر ہے۔ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک اب کھلم کھلا کہہ رہا ہے کہ “اصل طاقت سرمایہ ہے، قابلیت ثانوی ہے۔”
یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کو اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس ذہنی غلامی سے نکالنا ہوگا کہ ترقی صرف امریکا یا یورپ میں ہے۔ ہمیں اپنی سرزمین پر ایسے مواقع پیدا کرنا ہوں گے کہ یہاں کے انجینئر اور سائنسدان امریکا جانے کے بجائے پاکستان میں ہی عزت اور روزگار پائیں۔ ورنہ صورتحال یہ ہوگی کہ ٹرمپ کی پالیسی سے بھارت کی اجارہ داری کمزور ہوگی، مگر ہم اس خلا کو پُر کرنے کے بجائے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا اب ٹیکنالوجی اور ہنر کی جنگ لڑ رہی ہے۔ جو ملک اپنے نوجوانوں کو علم اور تحقیق میں آگے بڑھا دے گا، وہی آنے والے برسوں کا قائد ہوگا۔ ٹرمپ کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ سچ آشکار کر دیا ہے کہ دنیا میں ہنر کا پاسپورٹ صرف اس وقت معتبر ہے جب آپ کے پاس سرمایہ بھی ہو۔
پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہنر کو دولت کے غلام بننے دیں گے یا ہنر کو اپنی اصل طاقت بنا کر دنیا کو چونکائیں گے۔
@@@@@@@@@@@