October 31, 2026

دل کی بات خ ح شہزاد جشن آزادی

IMG-20240809-WA0158(1)

دل کی بات
خ ح شہزاد
جشن آزادی
یقنا زندہ قومیں اپنے قومی دن جوش وجزبے سے مناتی ھیں۔۔اپنے اسلاف کو خراج تحسین پیش کرتی ھیں۔اپنے ہیروز کو یاد کرتی ھیں۔اور اپنی منزل کا تعین کرتی ھیں کہ اپنے ملک وطن ۔ریاست۔کو کن منزلوں تک لے جانا ھے۔اپنے بچوں کے مستقبل کی پلاننگ کرتے ھیں۔۔لیکن پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں شامل نہیں ھے۔14اگست یوم آزادی قریب ھے۔چند دنوں بعد ھم جشن آزادی مناھیں گے۔لیکن نہ ھم اپنے ادلاف کو یاد کریں گے نہ ان دس لاکھ گمنام شہداء کو یاد کریں گے جو ہجرت کے دوران جام شہادت نوش کرگے۔کہتے ھیں کہ مکہ شریف سے مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد چودہ سو سال بعد پھر خالص اسلام کی خاطر ہجرت ہندوستان سے پاک سرزمین کی طرف ھوئی۔اس ہجرت اور پھر مشکلات کا جن سے سامنا مسلمانوں نے کیا وہ ھماری تاریخ کا حصہ ھے۔لیکن پاکستان کے لیے جو دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ھوئی لاکھوں لوگوں نے گھربار۔مال اسباب۔سب کچھ چھوڑ کر اسلام کی سربلندی کے لیے۔اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے اور ایسا خطہ جہاں اسلام کے اصولوں پر عمل کرکے ایک مصطفائی معاشرہ تشکیل دینا تھا شاہد ھم سے بہت کم لوگ ان لاکھوں لوگوں کی قربانیوں سے واقف ھیں۔اگر ھم واقف ھوتے ھوتے تو پھر 14اگست کو باجے اور ناچ گانے سے سدھم نہ مچاتے بلکہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرکے روشن ترقی یافتہ۔ایماندار۔لوٹ مار سے پاک۔جھوٹ فریب سے پاک ایک ایساپاکستان بنانے کا عہد کرطے جس کا خواب ھمارے اسلاف نے دیکھا تھا۔ہم تو صرف بیس سال بعد اپنے اسلاف کی میراث کی حفاظت نہ کرسکے اور دولخت کردیا پیارے پاکستان کو۔اور اپنے اسلاف کے دو قومی نظریہ کا مزاق اڑایا۔لیکن شکر آج چالیس سال بعد پھر دو قومی نظریہ کی سچائی ثابت ھوچکی ھے اور ھمارے بنگالی بھائیوں نے غداروں اور ورغلانے والوں کے بتوں کو پاش پاش کردیا ھے۔آج بنگلے دیش پھر اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل پڑا ھے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رھے ھیں الحمد اللہ۔
پاکستان جو مدینہ کی ریاست کے بعد دوسری اسلام کے نام پر حاصل کردھ ریاست ھے۔اس پر بدقسمتی سے چور اچکے حکمران مسلط ھوگے۔جن کی ناقص اور لوٹ مار کی پالسیوں کی وجہ سے پاکستان آج شدید مہنگائی۔قرضے۔سیاسی انتشار۔بدامنی کا شکار ھے۔یقنا اس میں میں ھم سب قصور وار ھیں کہ حکمران بھی تو ھم منتخب کرتے ھیں۔اگر فوج آتی ھے تو اسکی دعوت بھی ھمارے سیاست دان دیتے ھیں۔اب صورتحال یہ ھے کہ آپ کا کوئی جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ھوتا۔ھر جگہ چائے پانی چل رھا ھے۔اور لوگ دے رھے ھیں۔معاشرے کے دیگر طبقے جن کے ذمہ اصلاح واحوال کا کام تھا ۔علمائے کرام۔صحافی۔اساتذہ۔وغیرہ سبھی اس طوفان بدتیمزی کی نظر ھوچکے ھیں۔کوئی رہ دیکھانے والا نہیں۔اساتذہ کے خود تبادلے رشوت کے بغیرنہیں ھوتے۔جو استاد رشوت دے کر بھرتی یا تبادلہ کرواکر آیا ھے کیا پڑھائے کہ رشوت لینے اور دینے والا دوزخی ھے؟جو علماء خود قبضہ کرکے مسجد بنا کر بیھٹا ھے وہ کیا خطبہ دے گا کہ جس نے ایک ہاتھ زمین ناجائز قبضہ کی اس پر سات زمینوں کا بوبھ ڈالا جائے گا۔اور کیا وہ صحافی جو لاکھوں روپے تنخواہ لے رھا ھے وہ سچ بول اور دکھا پائے گا۔اپنے مالک کی مرضی کے بغیر۔؟
اور وہ صحافی جو اپنے ورکر سے کہ رھا ھوتا ھے کہ اپنی کھا کے آؤ میری لے کے انا کیا وہ صحافی اس معاشرے کا بگاڑ سدھارے گا؟کیا وہ پولیس والا انصاف دلواسکتا ھے جو قتل کے لواحقین سے کاغذ پنسل تک منگواتا ھے کہ آپ کی ایف آئی آر درج کرنی ھے۔کیا وہ عدالتیں انصاف دلا سکتی ھیں جہاں حضور اکرمﷺجن کے نام کے صدقے یہ ملک ملا تھا ۔وہ ختم نبوتﷺآور تحفظ ناموس رسالت ﷺنہ کرسکیں۔آگے آھیں کیا یہ سیاستدان جن کے بچے بیرون ملک۔جن کے اثاثہ جات بیرون ملک۔اور حکومت صرف یہاں کرتے ھیں۔کیا یہ آپکو ترقی کا راستہ بتاھیں گے۔یہ صرف آئی پی پیز کے معاہدوں کے ذریعے ساری دولت لوٹ کے لے جاھیں جاھیں گے اور عوام کو آئی ایم ایف کا غلام بناکر خود فرار ھوجاھیں گے۔پھر فوج کا حال یہ ھے کہ ملک کا سب سے مضبوط ادارہ آج کل عوام کے غیض وغضب کا شکار ھے۔عوام اب فوج پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔تو پھر آؤ ملکر اس نظام کی طرف لوٹ جاھیں جس کے نفاذ کے لیے قائد اعظم اور آپ کے ساتھیوں نے دن رات کوشش کی تھی کہ ایسا خطہ حاصل کریں جہاں اسلام کے سہنری اصولوں پر عمل کرکے مسلمان جو زوال کا شکار ھیں انکو بتایا جائے کہ اگر اسلام پر عمل کیا جائے تو اسلام خود ایک پاور ھے۔اوص اسلام مغلوب نہیں بلکہ حکمرانی کے لیے آیا ھے۔جس مظلوموں۔غریبوں۔مسکینوں۔کمزور طبقے کی ذمہ داری خود اٹھائی ھے۔اور خلفائے راشدین اور بعد کے وہ نیک بادشاہ جن نے اسلام کے اصولوں پر عمل کیا۔اسلام نے انہیں وہ عزت دی جو تاقیامت باقی رھے گی۔تو آؤ اس اگست میں جشن مناھیں باجے باجاہیں لیکن کچھ وقت کے لیے سوچیں کہ ھم اسلاف کی میراث کے ساتھ کیا کررھے ھیں۔؟؟؟؟