November 1, 2026

*خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ کی صورتحال پر رپورٹ* (سید گوہر شاہ )

IMG-20261031-WA0197

*خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ کی صورتحال پر رپورٹ*
(سید گوہر شاہ )
*پس منظر:*
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو صدر آصف علی زرداری کی منظوری سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کر دیے گئے اور 11 رکنی مشاورتی کونسل بنا دی گئی۔ f154

*کتنے دن راستے بند رہے اور ٹرانسپورٹ کب بند رہی؟*

1. *ابتدائی لاک ڈاؤن (11 سے 13 اکتوبر):* گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی پشاور کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا۔ تمام سرکاری رپورٹس کے مطابق دوسرے دن بھی صورتحال بدستور رہی۔
2. *موجودہ صورتحال (31 اکتوبر تک):* سیکیورٹی الرٹ آج تک برقرار ہے۔ آج 31 اکتوبر کی MUDRIK سچویشن رپورٹ کے مطابق *گورنر راج بدستور جاری ہے اور ختم ہونے کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی*۔ یعنی تقریباً 20 دن سے صوبہ براہ راست وفاقی کنٹرول میں ہے۔ 4a104691

*کن اضلاع اور راستوں پر اثر پڑا؟*

*الف) پشاور:*
شہر کی تاریخ میں پہلی بار کنٹینرز دارالحکومت کی بجائے پشاور کے اندر لگائے گئے۔
بند راستے:
– پشاور کینٹ کے تمام داخلی و خارجی راستے بند
– خیبر روڈ، فردوس چوک (جی ٹی روڈ)، باچا خان چوک، یونیورسٹی روڈ تہکال کے قریب، ریلوے روڈ شوبہ بازار کی طرف، شیر شاہ سوری روڈ، ورسک روڈ، شامی روڈ
– جی ٹی روڈ پر پیر زکوڑی پل بند، قلعہ بالا حصار، گورنر ہاؤس، صوبائی اسمبلی کے اطراف مکمل ناکہ بندی
– *BRT بس سروس معطل* – ٹرانس پشاور نے سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سروس بند کر دی تھی f1543d9704f0f61a

*ب) دیگر اضلاع:*
– *مردان:* تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند، امتحانات منسوخ
– *صوابی:* اسماعیلہ انٹرچینج، جہانگیرہ پل، دریائے سندھ پل پر کنٹینرز، انٹرنیٹ دوسرے دن بھی بند
– *ڈی آئی خان / اٹک / ٹانک:* M-1 موٹروے پشاور ٹول پلازہ سے رشکئی تک، N-55 یارک کے مقام پر بند، M-14 ہکلہ سے ڈی آئی خان جزوی بند بتائی گئی۔ M-1 سوابی سے اسلام آباد تک بند کی گئی۔
– *اسلام آباد سے رابطہ:* خیبر پختونخوا سے جڑواں شہروں (راولپنڈی اسلام آباد) کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل کر دی گئی تھی، مسافر بس اڈوں پر پھنسے رہے

*لاجسٹک اور مالی نقصان:*

سرکاری طور پر ابھی تک مالی نقصان کا کوئی حتمی تخمینہ جاری نہیں ہوا، لیکن:

1. *سپلائی چین کا ٹوٹنا:* پشاور کو پنجاب سے سبزی، پھل اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہوئی۔
2. *2000 سے زائد گاڑیاں قبضے میں:* آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق احتجاج سے پہلے ہی اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور اٹک میں 2000 سے زائد مال بردار گاڑیاں روک لی گئیں، جس پر ٹرانسپورٹرز نے خبردار کیا کہ اگر ریلیف نہ ملا تو سپلائی چین مکمل بند ہو جائے گی۔
3. *ایندھن کی ترسیل:* وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی سڑک سے ترسیل میں رکاوٹ کے پیش نظر ریلوے ویگنوں سے ڈیزل خیبر پختونخوا پہنچانے کا ہنگامی پلان بنایا۔
4. *روزمرہ معیشت:* پشاور صدر اور دیگر تجارتی مراکز بند یا جزوی کھلے رہے، جس سے دیہاڑی دار طبقہ، رکشہ ڈرائیور اور چھوٹے تاجر براہ راست متاثر ہوئے۔

*خلاصہ:*
گورنر راج کا سب سے بڑا نقصان لاجسٹک کو ہوا ہے۔ 11 اکتوبر سے شروع ہونے والا لاک ڈاؤن اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور آج 31 اکتوبر تک بھی کوئی اختتامی تاریخ نہیں ہے۔ پشاور کینٹ عملاً سیل ہے، صوابی-مردان-اٹک کے مرکزی شاہراہوں پر آمدورفت وقفے وقفے سے بند ہو رہی ہے، اور جڑواں شہروں سے خیبر پختونخوا کا ٹرانسپورٹ رابطہ بدستور غیر مستحکم ہے۔

You may have missed