October 11, 2026

انتخاب : ناظمہ ایاز کالو کوا۔۔۔

IMG-20250823-WA0220(1)

انتخاب : ناظمہ ایاز

کالو کوا۔۔۔

کالو کوّا بڑا ہی سڑیل اور چڑچڑا کوّا تھا۔ وہ دوسروں سے الگ تھلگ رہنا پسند کرتا تھا۔ جنگل کے بیچوں بیچ جہاں سب پرندے رہتے، ہنستے کھیلتے، خوشیاں بانٹتے، وہاں کالو نے اپنا گھونسلہ کنارے پر بنایا تھا، تاکہ کوئی اس کے پاس نہ آ سکے۔ جب بارش برستی اور پرندے خوشی سے نہاتے، پروں کو جھٹکتے اور چھپاک چھپاک کرتے، کالو دور بیٹھا دیکھتا اور ناک چڑھا کر منہ پھیر لیتا۔ “اونہہ… کتنے بے وقوف ہیں یہ سب!” وہ بڑبڑاتا۔ “بارش کا گندا پانی اپنے پروں میں بھرتے ہیں، بیمار ہو جائیں گے، گھونسلے بھیگ جائیں گے، سردی میں کانپیں گے۔ عقل تو صرف مجھ میں ہے۔”

وہ اپنی ہی سوچ پر بڑا ناز کرتا، مگر حقیقت میں کالو خود کو اصل علم سے دور رکھے بیٹھا تھا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ بارش کے قطروں میں جادو چھپا ہے۔ کوّے بارش میں نہا کر اپنے پروں سے دھول اور کیڑے دور کر لیتے ہیں۔ ان کے پروں میں ایک باریک سا تیل ہوتا ہے جو انہیں پانی سے محفوظ رکھتا ہے، اسی لیے وہ بیمار نہیں پڑتے بلکہ اور تندرست ہو جاتے ہیں۔ بارش کے بعد زمین نرم ہو جاتی ہے، کیڑے مکوڑے باہر آ جاتے ہیں اور کوّوں کو مزیدار خوراک آسانی سے مل جاتی ہے۔ کچھ کوّے تو بارش کا پانی چونچ میں بھر
کر بچوں کو پلاتے ہیں جیسےکوئی میٹھا تحفہ ہو۔

ایک دن دھواں دھار۔۔بارش ہوئی۔ کالو اپنے گھونسلے میں دبکا رہا، مگر پانی گھونسلے کے اندر ٹپکنے لگا۔ اس کے پَر بھیگ گئے اور وہ کانپنے لگا۔ آخر کار گھبرا کر باہر نکلا تو دیکھا باقی کوّے بارش میں خوشی خوشی نہا رہے تھے۔ وہ منہ بناتے ہوئے ایک طرف کھڑا رہا، لیکن ایک قطرہ سیدھا اس کی چونچ پر گرا۔ قطرہ ٹھنڈا بھی تھا، میٹھا بھی۔ اس نے چونچ کھولی اور چند قطرے اور پی لیے۔ پھر جھجکتے جھجکتے پانی کے ایک گڑھے کے پاس گیا، پَروں کو پھیلایا، اور پہلی بار بارش کو اپنے اوپر گرنے دیا۔ عجیب سا سکون اترا۔ بوجھ جیسے دھل گیا ہو۔ اس کے پروں کی چمک لوٹ آئی، دل ہلکا ہو گیا اور آنکھوں میں ایک انوکھی چمک اتر آئی۔

اب کالو نے باقی کوّوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ اس نے پایا کہ یہ پرندے صرف خوشی میں نہیں، عقل میں بھی کسی سے کم نہیں۔۔۔
ایک کوّا لکڑی کا تنکا چونچ میں لے کر سوراخ میں ڈالتا اور کیڑا باہر نکال لیتا۔ ایک دوسرا پانی میں کنکر ڈال کر سطح ۔۔اوپر لاتا تاکہ آسانی سے پی سکے۔ کبھی کبھی کوّے اپنے چھپائے ہوئے دانے پھر کہیں اور چھپا لیتے تاکہ کوئی چوری نہ کر سکے۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ اگر کوئی پرندہ خطرہ دیکھ لے تو “کاں کاں” کی بلند آواز سے سب کو خبردار کرتا ہے اور پوری ٹولی فوراً محتاط ہو جاتی ہے۔ ایک دن کالو نے انہیں کھیلتے بھی دیکھا۔۔۔کچھ کوّے جان بوجھ کر ہرن یا بندر۔۔۔کے پیچھے سے شور مچاتے اور پھر اپنی ہی ہنسی جیسا شور کر کے خوش ہوتے۔

کالو کو یہ سب دیکھ کر حیرت ہوئی۔ وہ سوچنے لگا کہ کوّے صرف پرندے نہیں بلکہ یادداشت کے استاد ہیں۔ وہ انسانوں کے چہرے برسوں تک یاد رکھتے ہیں، اپنے بچوں کو دشمنوں کے بارے میں بتاتے ہیں، اور مرنے والے کوّے کے گرد جمع ہو کر جیسے سوگ مناتے ہیں اور دوسروں کو خبردار کرتے ہیں کہ اس جگہ پر خطرہ ہے۔ یہ پرندے اپنی عقل، یادداشت اور کھیل کی عادت سے جنگل میں ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔

اب کالو کو احساس ہوا کہ وہ کتنا کچھ کھو چکا ہے۔ اکیلا رہنا دانائی نہیں بلکہ مل کر جینا اصل عقل ہے۔ اس نے باقی پرندوں کے ساتھ دوستی کی، اور سب نے خوشی سے اسے اپنے کھیل میں شامل کر لیا۔ کسی نے اس کی پرانی سڑیل طبیعت کو یاد نہ رکھا۔

اس دن کے بعد بارش کالو کے لیے دشمن نہ رہی۔ اب جب بھی بادل آتے، وہ سب سے پہلے پروں کو جھٹک کر خوشی سے “کاں … کاں…!” کرتا اور بارش کے قطروں میں نہا جاتا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ بارش گندا پانی نہیں بلکہ زندگی کی مسکراہٹ ہے۔

یوں وہ کوّا جو کبھی چڑچڑا اور تنہا تھا، جنگل کے سب سے خوش مزاج اور دانا پرندوں میں شمار ہونے لگا۔ کیونکہ اس نے سیکھ لیا تھا کہ قدرت کے تحفوں کو ٹھکرانے والا کبھی اصل خوشی نہیں پا سکتا۔