October 11, 2026

*مفتی صاحبان کو پانچ زبانوں کا ماہر اور اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے* اتوار 24 اگست 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2025-08-24_064248

*مفتی صاحبان کو پانچ زبانوں کا ماہر اور اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے*

اتوار 24 اگست 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

علما اکرام قوم میں یکجہتی پیدا کریں۔ قوم کو فرقوں میں نہ بانٹیں۔ مخالفین کو کافر نہیں مسلمان سمجھیں۔

ایک فتوی جس نے مسلم تہذیب کو جہالت کے کفن میں لپیٹ کر رکھ دیا۔

یاد رہے کہ
پرنٹنگ مشین جرمنی کے ایک سنار گوتنبرگ نے 1455 میں ایجاد کی. اسوقت مسلم تہذیب تاریخی عروج پر تھی. عثمانی خلافت کی عظیم سلطنت ایشیا میں شام عراق ایران آرمینیا آذربائیجان اردن سعودی عرب یمن مصر تیونس لیبیا مراکو تک اور یورپ میں یونان روم بوسنیا بلغاریہ رومانیہ اسٹونیا ہنگری پولینڈ آسٹریا کریمیا تک پھیلی ہوئی تھی._*

*_مذہبی علما نے فتوی دیدیا کہ پرنٹنگ مشین بدعت ہے اس پر قران اور اسلامی کتابوں کا چھاپنا حرام ہے. عثمانی خلیفہ سلطان سلیم اول نے پرنٹنگ مشین کے استعمال پر موت کی سزا کا فرمان جاری کر دیا. مسلم ممالک پر یہ پابندی 362 سال برقرار رہی. ہاتھ سے لکھے نسخے چھاپہ خانے کا مقابلہ کیسے کرتے..!؟ کتابوں رسالوں کی فراوانی نے مغرب کو جدید علوم کا سمندر اور مسلم تہذیب کو بنجر سوچ کے جوہڑ میں تبدیل کر دیا. جاگے تو فکری بینائی کھو چکی تھی._*

*_آخر 1817 میں فتوی اٹھا لیا گیا. لیکن ان پونے چار سو سال کی پابندی نے مسلم تہذیب کو عقیدوں کا ذہنی غلام بنا دیا. از خود سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا. یہ فاصلہ آج تک نہ صرف برقرار ہے بلکہ مزید بڑھتا جا رہا ہے. مقام حیرت ہے کہ مسلمانوں کو اس تہذیبی زیاں پر ملال بھی نہیں، نہ ہی یہ تاریخ نصاب میں پڑھائی جاتی ہے کہ نئی نسل سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھ سکے._*

*_یہ ہماری تاریخ میں کیا جانے والا ایک ظلم تھا، اور اس بارے میں موجودہ نسل کو ذرا بھی معلومات نہیں ہونگی…_*
*_یہ کوئی ایک فتویٰ نہیں تھا سائنس کی ہر ایجادات پر اسی طرح فتویٰ جاری کیے گئے ہیں اور بعد میں اسی سے فائدہ اٹھانے والوں میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں…_*
*_مسلمانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ جدیدیت Modernization کے اصولوں کو چھوڑ کر روایت پسندی Traditionalism جیسی لعنت کو گلے سے لگا لیا اور نہ روکنے والے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے ہم نے آسانیاں تقسیم کرنے کے بجائے مشکلات سے لڑنے کا فن سیکھ لیا ہے.