معرکہ حق جشن آزادی پر قوم نے دشمن کو پیغام دیا کہ ہم ایک ہیں ۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ ضرار جگوال
معرکہ حق جشن آزادی پر قوم نے دشمن کو پیغام دیا کہ ہم ایک ہیں ۔۔
تحریر ۔۔۔۔۔ ضرار جگوال
14 اگست صرف تقویم کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ وہ مقدس دن ہے جب اس دھرتی پر لا الٰہ الا اللہ کے نعرے کی گونج نے ظلمتوں کا سینہ چیر دیا۔ آج جب پاکستان اپنے وجود کی عمر کے 78 برس مکمل کر چکا ہے، تو قوم ایک بار پھر نظریۂ پاکستان، قربانی اور شہادت کی ان داستانوں کو یاد کرتی ہے جن کے بغیر آج کا یہ آزاد سورج کبھی طلوع نہ ہوتا۔ 14 اگست… صرف ایک دن نہیں، ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک زندہ قوم کی جیتی جاگتی داستانِ حریت ہے۔ یہ دن اُس معرکۂ حق کی یادگار ہے جس میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال، عزت اور نسلیں قربان کر کے ایک آزاد ریاست کا خواب پورا کیا۔ یہ ریاست محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے لا الٰہ الا اللہ کے پرچم تلے قائم ہونے والا وطن۔ اور آج، دہائیوں بعد بھی، اسی نظریے پر ایمان رکھنے والی عوام اور جانیں قربان کرنے پر تیار افواجِ پاکستان اس معرکے کے وارث ہیں۔ یومِ آزادی پر دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان کی رگوں میں اب بھی وہی گرم خون دوڑتا ہے جو 1947 میں بہایا گیا تھا۔ قوم نے واضح کر دیا کہ چاہے دشمن کتنے حربے آزمائے، پاکستانی قوم اپنے جری سپوتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بھارت ہو یا کوئی اور، جو ہماری سالمیت پر نظر ڈالے گا، اُسے پوری قوم سے سابقہ پڑے گا ایک ایسی قوم جو معرکۂ حق کی وارث ہے۔ اس قوم کا درخشندہ ستارہ اگر کوئی ہے تو وہ افواجِ پاکستان ہے ہماری مٹی کی آن بان، شان اور پہچان ہے ۔ یہ صرف فوج نہیں، یہ حوصلے کا قافلہ ہے۔ افواجِ پاکستان وہ مٹی کے بیٹے ہیں جنہوں نے ماں کے قدموں سے نکل کر وطن کے قدم چومے، اور پھر ان قدموں کے تحفظ کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ لی۔ یہ وہ سپاہی ہے جو کڑاکے کی سردی میں برف سے ڈھکے سیاچن میں پہرا دیتا ہے، جو تپتی ہوئی ریت میں بلوچستان کی سرحدیں محفوظ بناتا ہے، جو شمالی وزیرستان کی وادیوں میں دہشت کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے، اور جو زلزلوں، سیلابوں میں ماں کی طرح قوم کو سنبھالتا ہے۔ یہ صرف فوج نہیں یہ جذبہ ہے، یہ جنون ہے، یہ عشق ہے وطن سے، خاکِ پاک سے، اُس پرچم سے جو آسمان سے باتیں کرتا ہے۔ یومِ آزادی 2025 پر جب پاکستان کے گلی کوچوں میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا، بچے نغمے گا رہے تھے، بزرگ شہداء کو سلام پیش کر رہے تھے، تب ایک منظر سب سے نمایاں تھا افواجِ پاکستان سے محبت کا اظہار ہر شہر، ہر قریہ، ہر بستی میں یہ نعرہ گونج رہا تھا پاکستان تم پر جان بھی قربان ہے ۔پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کا رشتہ صرف محافظ و محفوظ کا نہیں، بلکہ یہ رشتہ وفا، اعتماد، اور بے لوث محبت پر قائم ہے۔ جب بھی ملک پر کوئی کڑا وقت آیا، چاہے وہ سرحدی جنگ ہو یا دہشت گردی کی لہر، عوام نے اپنی افواج کو تنہا نہیں چھوڑا۔ کبھی سوشل میڈیا پر دعاؤں کی لَہر چلی، کبھی ماؤں نے اپنے جگر گوشے قربان کیے، اور کبھی بچوں نے سپاہیوں کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ پاکستانی عوام اور افواج پاکستان کا یہ رشتہ ایسا ہے جیسے چاند اور چاندنی، پھول اور خوشبو، یا دل اور دھڑکن۔ عوام جانتے ہیں کہ ان کی راتوں کی نیند، ان کے بچوں کا سکون، ان کے گھروں کی سلامتی سب کچھ اُن مجاہدوں کے دم سے ہے جو مورچوں میں جاگتے ہیں۔ قوم نے واضح کر دیا کہ نہ سازشیں اس محبت کو کم کر سکتی ہیں، نہ پروپیگنڈا اسے ختم کر سکتا ہے۔ یہ رشتہ محض خون کا نہیں، ایمان کا ہے۔ فوج اور عوام ایک جسم کے دو ہاتھ ہیں، ایک دل کی دو دھڑکنیں ہیں ۔ عوام نے دشمن کو پیغام دیا کہ تم دوبارا پیدا ہو کر بھی ہمیں توڑ نہیں سکتے آج جب دشمن اپنی چالاکیوں میں مصروف ہے، سرحدوں پر میلی نگاہیں جمائے بیٹھا ہے، اور ذہنوں کو زہر سے آلودہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تب پاک فوج خاموشی سے، لیکن فولادی عزم کے ساتھ کھڑی ہے۔ سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا ہو یا میدانِ جنگ میں اشتعال، دشمن کو ہر بار اسی پیغام کا سامنا ہوتا ہے یہ وطن تمھیں ہرگز نہیں ملے گا ۔ 14 اگست پر جب پورے ملک نے اپنے محافظوں کو سلام پیش کیا، تو دنیا نے دیکھ لیا یہ قوم اپنی فوج سے محبت کرتی ہے، اپنے شہداء کو یاد رکھتی ہے، اور ہر حملے کے جواب میں یقین، اتحاد، قربانی کا پرچم بلند کرتی ہے۔ کوئی رات ایسی نہیں جس میں کسی ماں نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان نہ کیا ہو۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس میں کسی بہن نے اپنے بھائی کی شہادت پر آنکھیں نہ بھگوئی ہوں۔ مگر فخر کا یہ عالم ہے کہ وہ سب کہتی ہیں ہم نے وطن کے لیے دیا، اور اگر وقت آیا، پھر دیں گے ۔ یہی وہ جذبہ ہے جو افواجِ پاکستان کو ایک عام فوج سے ہٹ کر ایک نظریاتی، روحانی اور قربانی کے قافلے میں بدل دیتا ہے۔ یہ فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں، یہ ملت کی بقاء کی ضمانت ہے۔ یومِ آزادی کے اس معرکۂ حق میں پوری قوم نے دنیا کو ایک پیغام دیا پاکستان ایک نظریہ ہے، اور افواجِ پاکستان اُس نظریے کی تلوار ہے۔ سلام اُن سرفروشوں کو جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کیا۔ سلام ان ہاتھوں کو جو اس دھرتی پر جان نچھاور کرنے کے لیے اٹھتے ہیں۔ سلام اس جذبے کو جو پاکستان زندہ باد کا نعرہ سن کر دل میں موجزن ہوتا ہے۔