آپ چیٹ جی پی ٹی اور گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں۔۔سندھ حکومت نے اربوں کی تعداد میں مینگروز درخت لگائے ہیں
آپ چیٹ جی پی ٹی اور گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں۔۔سندھ حکومت نے اربوں کی تعداد میں مینگروز درخت لگائے ہیں جس سے کروڑوں ڈالرز کے کاربن حاصل کرکے کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاتا ھے۔۔۔
پختونخوا میں بلین تری سونامی پروجیکٹ پر میڈیا میں اربوں روپے لگانے کے باوجود کہیں بھی کوئی درخت نہیں لگایا گیا بلکہ الٹا ناردرن ایریاز میں پہاڑوں پر صدیوں سے موجود قیمتی درختوں کو کاٹ کاٹ کر پورے جنگلات کو ختم کر دیا ھے جس سے پختونخوا کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ پختونخوا کا سیاحتی حسن بھی ختم ہوا ھے۔۔
جبکہ بلین ٹری سونامی میں اربوں کی کرپشن کو چھپانے کیلئے جنگلات کو آگ لگا کر لاکھوں کروڑوں کا نقصان پہنچانا اس کے علاؤہ ھے ۔۔
سندھ (بالخصوص ٹھٹہ، سجاول/کھاروچان، کیٹی بندر وغیرہ) میں سرکاری مہمات کے تحت لاکھوں—پھر کروڑوں—اور اب مجموعی طور پر اربوں مینگروز لگائے گئے ہیں۔ چند مستند سنگِ میل:
2009 — کیٹی بندر (ٹھٹہ): 24 گھنٹوں میں 541,176 پودے (گنیز نے تصدیق کی)، ۔
2013 — کھاروچان (سجاول/ٹھٹہ): 24 گھنٹوں میں 847,275 پودے (گنیز ریکارڈ)، ۔
2018 — کیٹی بندر (ٹھٹہ): 24 گھنٹوں میں 1,129,294 پودے (نیا عالمی ریکارڈ)، ۔
مجموعی طور پر سندھ کے ساحلی علاقے: حکومتِ سندھ کے مطابق دو ارب سے زائد مینگروز 2008–2020 کے دوران مختلف ساحلی اضلاع (جس میں ٹھٹہ و سجاول شامل ہیں) میں لگائے گئے۔
رقبہ کی بحالی: سندھ میں مینگروز کا رقبہ تقریباً 80,000 ہیکٹر (1990) سے بڑھ کر حالیہ برسوں میں ~240,000 ہیکٹر تک پہنچایا گیا ہے۔