آزادی کی قیمت کسی شہید کی بیوہ سے پوچھیں* میں آج یومِ آزادی کے موقع پر 54 بلوچ رجمنٹ کے آفیسرز ۔ جوانوں اور جناب صوبیدار ممتاز کوراٸی کے ساتھ سپر ہاٸی وے کے قریب کھوسہ گوٹھ میں انکے
*آزادی کی قیمت کسی شہید کی بیوہ سے پوچھیں*
میں آج یومِ آزادی کے موقع پر 54 بلوچ رجمنٹ کے آفیسرز ۔ جوانوں اور جناب صوبیدار ممتاز کوراٸی کے ساتھ سپر ہاٸی وے کے قریب کھوسہ گوٹھ میں انکے شہید بیٹے میجر ایاز کوراٸی کی قبر پر دعا کیلیے گیا ۔
ہم نے یومِ آزادی منانے کے لیے گاٶں میں بچوں کے ساتھ پاکستان کا جھنڈا لہرانے کے بعد میجر ایاز کوراٸی کی قبر پر بھی پاکستانی جھنڈا اور پھول ڈالے اور ملک و قوم پر قربان ہونےوالے ہر سولجر کیلیے دعا کی ۔ مجھے ایک بچہ بہت جوش سے ملا اور اپنا تعارف کروایا تو مجھے دو سال پرانی ایک خوشیوں بھری تقریب یاد آ گٸی جس میں مجھے میجر ایاز کوراٸی شہید کے بچوں اور بیوی سے ملنے کا موقع بھی ملا تھا ۔ میں نے اس تقریب کے بارے میں اپنے فیس بک پیج پر لکھا بھی تھا سوچا آج دوبارہ یادیں شیٸر کروں ۔
اس تقریب میں تقاریر شروع ہوٸیں تو ایک 12 سالہ بچہ شاہیر کوراٸی بھی تقریر کرنے آیا اور 26 دسمبر 2020 کو کارگل سیکٹر میں شہید ہونے والے اپنے ماموں میجر ایاز کوراٸی کی کہانی سنا کر اس کے نقش قدم پر چلنے کے وعدے کر گیا ۔پتہ چلا کہ انتہاٸی باٸیں جانب ہال میں سندھ کے ایک چھوٹے سے گاٶں گوٹھ سنہری فارم مورو کے شہید افسر میجر ایاز حسین کوراٸی کی بیوہ اپنے 3 کمسن بچوں 6 اور 4 سال کے بیٹے اور شہادت کے بعد پیدا ہونے والی اڑھاٸی سالہ بیٹی کے ساتھ موجود ہے ۔ شہید افسر کے والد محترم ریٹاٸرڈ صوبیدار ممتاز کوراٸی بھی ساتھ ہی بیٹھے تھے ۔
میں نے تقریر میں اپنے بہادر افسروں اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا تو شہید افسر کی بیوہ چہرے پر مسکراہٹ لیے تالی بجا رہی تھی مگر اسکی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بھی گر رہے تھے ۔ آپ سوچیے اب یہ 30 سالہ بیوہ اپنے شہید شوہر کی پینشن سے تین بچے پال کر جوان کرے گی ۔ دو چار سال بعد شاید شہید افسر اور اسکی بیوہ ہمیں یاد بھی نہ رہے ۔ یہ تو شکر ہے کہ آرمی نے اسے ملیر کینٹ میں ایک فلیٹ دے دیا ہے ورنہ وہ اسی گوٹھ کے ایک کچے مکان میں اگلے 30-35 سال بیوگی کی زندگی گزارتی ۔
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم آج اپنے بہادر افسروں اور جوانوں کے کارناموں پر خوشیاں تو منا رہے ہیں مگر ہال میں بیٹھی شہید کی اس بیوہ کے دکھ شاید نہیں بانٹ سکتے ۔ کسی کی بہادری پر مسکرا کر بہتے آنسوٶں کے ساتھ تالیاں بجانے کا ہنر صرف کسی فوجی کی بیوہ ہی جانتی ہے ۔ یہ قربانی کی کیفیت ہم پر طاری ہو ہی نہیں سکتی ۔ میں وردی میں تو تھا نہیں مگر پھر بھی ڈاٸس سے ایک طرف ہٹ کر اس بیوہ کو پوری قوم کی طرف سے سیلیوٹ کیا اور اسے بتایا کہ ہم بطور قوم آپ کے قرضدار ہیں ۔ آپ ہماری بیٹی ہیں بہن ہیں ہمارے سر کا جھومر ہیں ۔ شہید کی بیوہ ہونے کا اعزاز اپنی جگہ مگر عزت سے باقی ماندہ زندگی کیسے گزرے گی یہ صرف وہ بیٹی ہی جانتی ہے ۔
تقریب میں میری تقریر آخری تھی مگر میرے بعد میجر ایاز شہید کے والد صوبیدار ممتاز کوراٸی اٹھ کر اسٹیج پر آگٸے اور انتہاٸی بھراٸی ہوٸی آواز میں کہنے لگے کہ اپنے شہید بیٹے کی میت گاٶں میں آنے پر میں بالکل نہیں رویا تھا لیکن آج اپنی بہو کیلیے ایک برگیڈیر کے سیلیوٹ نے مجھے رلا دیا ۔ اگر واقعی قوم کے دل میں اپنے شہیدوں اور انکے خاندان کی یہ عزت ہے تو میں اپنے دونوں پوتے پال پوس کر ملک و قوم پر قربان ہونے کو پھر فوج میں بھیجونگا کیونکہ میرے بیٹے سے پہلے میرا ایک بھاٸی میجر محمد خان بھی 2005 میں وانا میں دہشتگردوں کے ساتھ لڑتا شہادت پا چکا ہے ۔
میں دوبارہ اسٹیج پر چلا گیا ۔ صوبیدار ممتاز کوراٸی کو تھاما ۔ دلاسہ دیا ۔ شکریہ ادا کیا ۔ نہ جانے کیسے یہ خوشیوں بھری تقریب شہیدوں کی یادوں میں بہتے آنسوٶں میں بدل گٸی اور ہم تالیاں بجاتے اور ہچکیاں لیتے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ کر اپنی اپنی گاڑیوں میں جا بیٹھے ۔
*برگیڈیربشیرآراٸیں*