*خاک سا خاکی*
*خاک سا خاکی*
مجھ ناچیز کی اس کاوش کو ایسی عزت ملی کہ بیرون ملک سے نوجوانوں کے فون آنے لگے کہ آپ کی کتاب ”*خاک سا خاکی*“ کی نٸی نسل میں مقبولیت کا راز کیا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے اس دور میں تو بچے کتاب پڑھنے کی طرف زیادہ راغب نظر آتے ہی نہیں ہیں ۔ میں نے ہر پوچھنے والے کیلیے کتاب کے بارے میں لکھ بھیجا کہ
1- آپکو زندگی میں اگر وساٸل کی کمی کے باوجود امید کا دامن تھامے رکھنا ہے ۔
2- لمبی ٹھٹھرتی راتوں اور تپتی دھوپ میں لمبے کٹھن راستوں پر ہار جیت سے بے نیاز جہدِ مسلسل کرنی ہے ۔
3- اگر راستے اور منزلیں مشکل لگتی ہیں مگر ماں کی دعاٶں کو آسمان پر سنے جانے کے نتائج دیکھنے ہیں ۔
4- بچپن میں ماں کی شیشم کے گھنے درختوں جیسی ٹھنڈی ٹھار چھاٶں اور مخمل کی طرح نرم وگداز گود میں لیٹ کر سنی نصیحتوں پر عمل کرنے کے پھل کھانے ہیں ۔
5- اگر پروردگار کی غیبی مدد سے اپنے ہی زورِ بازو پر زندگی کی دوڑ جیتنی اور بن پروں کے اڑنا سیکھنا ہے ۔
6- توکل پر یقین محکم ہے اور ”*اللہ دن پھیرتا ہے*“ جیسی کہاوتوں کو دل سے مانتے ہیں ۔
7- والدین حیات نہیں ہیں اور انکی یادیں کبھی ستاتی ہیں رلاتی یا ہنساتی ہیں ۔
8- اپنی کماٸی سے کسی ضرورتمند کی مدد کرکے خلقِ خدا کے دلوں سے نکلی دعاٶں کی آسمانوں پر قبولیت کی حقیقی بازگشت سننی ہے اور خوش باش زندگی کے ساتھ راتوں میں سکون کی نیند کے مزے لوٹنے ہیں یا رزقِ حلال کے کرشمے دیکھنے ہیں۔
9- اگر پھلدار درختوں کے جھکنے جیسی کہاوتوں کی سچاٸی دیکھنی ہے یا اپنے رشتوں سے جڑے رہنے کی لذت چکھنی ہے تو
میری کتاب ”*خاک سا خاکی*“ ایک دفعہ ضرور پڑھنی چاہیے ۔
مطالبہ ہوا کہ ہم اتنے دور بیٹھے کتاب کیسے حاصل کریں آپ اسے *PDF فارمیٹ* میں مہیا کردیں تاکہ ہم مستفید ہو سکیں ۔
تو پی ڈی ایف فارمیٹ حاضر خدمت ہے ۔
واٹس ایپ نمبر 03000300098
*برگیڈیربشیرآراٸیں* (ریٹائرڈ)