October 28, 2026

تیرہ‎ اگست 1947 – آزادی سے ایک دن پہلے کا سورج ‎

IMG-20250719-WA0158(8)

تیرہ‎ اگست 1947 – آزادی سے ایک دن پہلے کا سورج
‎

‎
‎صبح کے وقت لاہور کی گلیوں میں خنکی کے باوجود ایک اضطراب کی لہر دوڑ رہی تھی۔ لوگ جاگ چکے تھے مگر یہ عام دن جیسا نہیں تھا۔ یہ 14 اگست کی شب کی آمد کا دن تھا — ایک ایسا دن جس کا ہر لمحہ ایک صدی پر بھاری لگتا تھا۔
‎
‎بازاروں میں گہما گہمی تھی، مگر یہ خریدو فروخت سے زیادہ امید کی جھلک تھی۔ بچوں کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھے، جو کاغذی بھی تھے اور کپڑے کے بھی۔ کچھ لڑکے پتنگیں بنا رہے تھے جن پر چاند اور ستارے کا نشان ہاتھ سے بنایا جا رہا تھا۔ ریڈیو پر بار بار اعلان ہو رہا تھا کہ “آج رات بارہ بجے پاکستان کی پیدائش کا اعلان ہوگا، سب لوگ قومی پرچم اپنے گھروں پر لہرائیں۔”
‎
‎ریڈیو پاکستان لاہور — جو آل انڈیا ریڈیو کا اسٹیشن تھا — وہاں رات سے ہی تیاری ہو رہی تھی۔ مائیکروفونوں کو چیک کیا جا رہا تھا۔ ایک نوجوان اناؤنسر احمد ندیم قاسمی کے ساتھ بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا:
‎”بس قاسمی صاحب، تاریخ ہمارے لبوں سے ادا ہونے جا رہی ہے… یہ لمحہ قوموں کی قسمتیں بدلتا ہے۔”
‎
‎ادھر دہلی میں قائداعظم محمد علی جناح کی روانگی کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ ان کا طیارہ 14 اگست کی صبح دہلی سے روانہ ہو کر کراچی پہنچنا تھا، مگر 13 اگست کی شب وہ آخری دستاویزات پر دستخط کر رہے تھے۔ وہ پرسکون تھے، مگر ان کی آنکھوں میں وہ تھکن صاف دیکھی جا سکتی تھی جو دو قومی نظریے کو حقیقت بنانے کی جدوجہد نے دی تھی۔ ان کے ارد گرد لیاقت علی خان، فاطمہ جناح اور دیگر قریبی رفقا خاموشی سے اس تاریخی لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔
‎
‎ادھر دہلی کی گلیوں میں خوف کی لہر تھی۔ ہندو مہاسبھا کے لوگ کھلم کھلا کہتے پھر رہے تھے: “یہ پاکستان کا خواب زیادہ دیر نہیں چلے گا۔” مسلمانوں کے محلے جیسے سہمے ہوئے تھے، دروازے اندر سے بند، اور کھڑکیوں سے جھانکتی نظریں۔ مگر ان نظریوں میں بھی عجب سی روشنی تھی — جیسے کچھ بہت عظیم ہونے والا ہو۔
‎
‎لاہور، کراچی، پشاور، سیالکوٹ، دہلی، کلکتہ — ہر شہر، ہر گلی، ہر دل میں ایک گھنٹی بج رہی تھی۔ لوگ جانتے تھے کہ اگلی صبح وہ آزادی کی صبح ہوگی۔ رات کے کھانے کے بعد بہت سے گھروں میں بزرگ بچوں کو آزادی کی اہمیت سمجھا رہے تھے۔
‎
‎”بیٹا، یہ جو سبز ہلالی پرچم ہے نا، یہ ہمارے خون سے رنگین ہوا ہے۔ اسے کبھی جھکنے نہ دینا۔”
‎
‎بہت سے لوگ چھتوں پر چڑھ کر رات بارہ بجے کے انتظار میں بیٹھ گئے تھے۔ کچھ نے چاند دیکھا، اور کچھ نے ستاروں کو شمار کیا — سب کو معلوم تھا کہ چاند اور ستارے کل سے ہماری شناخت ہوں گے۔
‎
‎سڑکوں پر رضاکاروں کی ٹولیاں نعرے لگا رہی تھیں:
‎
‎”لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان!”
‎”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!”
‎
‎لڑکیاں سفید لباسوں میں، سبز دوپٹے اوڑھ کر اپنے گھروں کے صحن میں محفلیں سجا رہی تھیں۔ قومی ترانوں کی مشق ہو رہی تھی۔ کسی نے مولانا ظفر علی خان کی نظم پڑھی، تو کسی نے علامہ اقبال کی “لب پہ آتی ہے دعا”۔
‎
‎یہ 13 اگست کا دن تھا …
‎انتظار کی آخری شام۔ …
‎یقین کا بلند ترین مقام۔ …
‎جس کے بعد صرف آزادی کی روشنی تھی۔
‎
‎@@@@@@@@@