اے ڈی سی آر سیالکوٹ کی گرفتاری
اے ڈی سی آر سیالکوٹ کی گرفتاری
اکتوبر2024 میں جب پی آئی اے کی نیلامی کیلئے 10 ارب کی بولی لگائی گئی تو میں نے ایک ٹویٹ کیا تھا کہ اتنی قیمت تو پنجاب کے تین اے ڈی سی آر مل کر ادا کرسکتے ہیں۔ پنجاب کی نگران حکومت میں لگائے گئے ملینئر اور بلینئر کے ناموں سے مشہور چار بدنام ترین اے ڈی سی آر کی قسمت اچھی کہہ لیں یا سیانے نکلے اور اچھی خاصی کمائی کے بعد لائم لائٹ پوسٹنگ سے نکل کر ڈپٹی سیکرٹری کی لو پروفائل سیٹ پر روپوشی اختیار کیے ہوئے ہیں، اے ڈی سی آر کی کمائی کو ڈائجسٹ کرنے کیلئے مذکورہ کرپٹ افسران کروڑوں روپؤں کو رشتہ داروں کے زریعے باہر بھجوانے اور مختلف ہاؤسنگ سوسائٹی میں انویسٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
الیکشن کے دنوں جنوری 2024میں، میں نے فیس بک پوسٹ لگائی تھی کہ پنجاب کے ایک اے ڈی سی آر نے جاپانی گاڑیوں کے بزنس مین سے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ دلوانے کے نام پر 5کروڑ کیش، مرسڈیز بینز اورV8لینڈ کروزر لے رکھی ہے۔ یہ کارنامہ بھی مشہور زمانہ اے ڈی سی آر اقبال کا تھا لیکن بد سے بدنام برا کے مصداق بیوروکریسی کی اکثریت کا شک دوسرے مشہور اے ڈی سی آر پر تھا۔
ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری کیلئے ریونیو رپورٹ تو اے ڈی سی آر کی کمائی ہوتی ہی ہوتی ہے لیکن اقبال کے معاملے میں چوپڑیاں اور وہ بھی دو نہیں تین کے مترادف، ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری کیلئے ریونیو رپورٹ کے بعد”پری سکروٹنی“ اور بعد ازاں خصوصی سفارش سے ڈسٹرکٹ ڈیزائن اینڈ پلاننگ کمیٹی کا ممبر بھی بن گیا۔
الیکشن 2024کے بعد مذکورہ اے ڈی سی آر اقبال اس قدر طاقتور بن گیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر ڈمی بن کر رہ گیا۔
مبینہ طور پر صرف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرف سے جمع کروائی گئی شکایت میں، لینڈ کروزر، اسپیشل ایڈیشن رولیکس واچ، چار کروڑ اکانوے لاکھ روپے نقد رقم، 2کمرشل پلاٹ، بیرون ملک کی بزنس کلاس ٹکٹس، ڈی ایچ اے لاہور میں گھر کے کرایہ کی مد میں 68لاکھ کی ادائیگی شامل ہے،اتنا کچھ لینے کے باوجود بھی “اور دو” کی ڈیمانڈ پر بات بگڑی۔30ماہ کی طویل ترین پوسٹنگ میں دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ریونیو کیسز میں عام افراد کے ساتھ روزمرہ معاملات میں کل ملا کر اقبال نے کتنے سو کروڑ اکٹھے کیے ہونگے۔ رشتہ داروں کو من پسند ٹھیکے دینا سمیت بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔
اقبال کے حکومتی جماعت کے وفاقی اور صوبائی وزراء کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث کاروائی ہونا مشن امپاسیبل لگتا تھا لیکن کرپشن کی مصدقہ شکایات پر فوری کاروائی کی اجازت اور حکم دینے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور چیف سیکرٹری پنجاب کی میرٹ پالیسی اور زیروٹالرینس کو سلام۔ ڈی جی انٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ کو بھی شاباش جو بڑی بڑی سفارشوں اور شدید پریشر کے باوجود بھی کسی قسم کی “فیور” دینے کی بجائے میرٹ پر تفتیش کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چیف منسٹر پنجاب کی کرپشن کی خلاف زیروٹالرینس پالیسی کی اس عملی جھلک کے بعد پنجاب کی بیوروکریسی میں احتساب کا ڈر پیدا ہوا ہے۔