*جنازے کے شرعی مسائل* ہفتہ 09 اگست 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*جنازے کے شرعی مسائل*
ہفتہ 09 اگست 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَالصَّلَاةَ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
، أَمَّا بَعْدُ !
اسلام علیکم و رحمہ
الحمدللہ
نماز و روزہ کے شرعی مسائل کی تحریر مکمل کرنے کے بعد آج سے آپ کی خدمت میں جنازے کے شرعی مسائل قرآن کریم اور احادیث نبوی کی روشنی میں بحوالہ مستند کتب صحاح ستہ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر روشنی ڈالی جائے گی۔
تاکہ عوام الناس بدعات کو چھوڑ کے صحیح دین اسلام کی معلومات حاصل کر سکیں اور ان معلومات کی بنیاد پر باقاعدہ عمل پیرا ہو کر اصل دین اپنی زندگی میں نافذ کرسکیں۔
یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچتی ہے کہ ہمارے ہاں جتنی بدعات جنازے کے مسائل میں آگئی ہیں اتنی کسی دوسرے امور میں قطعا” نہیں ہیں جن کی تصحیح کرنا بہت ضروری سمجھتا ہے۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ عام مسلمان صحیح دینی معلومات میسر نہ ہونے کی وجہ سے اپنی مرضی کو دین سمجھ بیٹھتے ہیں اور اس طرح بدعات کو سنت سمجھ کر اپنا ایمان ضائع کر بیٹھتے ہیں۔
اس ایمانی خسارے سے بچنے کے لئے نیک نیتی سے فرقوں سے بالا تر ہو کر اس کاوش کی سعی کر رہا ہوں امید واثق ہے کہ عوام الناس اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور علماء اکرام سے گزارش ہے کہ بندہ ناچیز کی رہنمائی فرماتے رہیں تاکہ دین محمدی کا معیار قائم رہے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
یا اللہ تعالی مجھے حق اور فرقوں سے پاک دین بیان کرنے کی توفیق عطا فرمانا۔
آمین یا رب العالمین
احقر العباد
انجینیئر نذیر ملک
سرگودھا 09 اگست 2025
*کتاب الجنائز*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسانی زندگی میں پیدائش اور موت دونوں ہی بڑی اہمیت کے حامل واقعات ہیں۔ پیدائش کے مقابلے میں موت کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اور دیر پا ہوتے ہیں۔ موت سے پہلے ہی بیماری کی حالت میں شرکیہ رسومات اور بدعات کا ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو موت کے بعد بھی طویل عرصے تک جاری رہتا ہے۔
غور فرمائیے ! انسان جب بستر مرگ پر ہوتا ہے تو سارے گھر میں عجیب سی نفسیاتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تیمار داری کرنے والوں کا احساس ناکامی، تقدیر کے سامنے انسان کی بے بسی، اپنے بال بچوں سے ہمیشہ ہمیشہ کی جدائی کا المناک تصور، موت کا خوف اور گھبراہٹ، موت کے تمام تر آثار و قرائن کے با وجود نہ تو لواحقین اپنے بیمار کو اس دنیا سے رخصت کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی مریض اس دنیا کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ امید و بیم کی اس کشمکش میں لواحقین اور مریض ہر وہ جتن کر گزرنے پر تیار ہوتے ہیں جو اس وقت کوئی حکیم یا جوگی ، پیر یا سادھو، عالم یا جاہل بتائے ۔ موت کے اس جان گسل مرحلے میں شیطان انسان کو شرک و بدعت کے تمام راستے ( شرکیہ دم جھاڑ ، تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے، مزاروں سے خاک شفا حاصل کرنا، مزاروں پر دھاگے باندھنا ، فوت شدہ بزرگوں کے ناموں کی نذریں، نیازیں دینا اور منتیں ماننا اور چڑھاوے چڑھانا وغیرہ) دکھا دیتا ہے ، جنہیں اپنے ضعیف ایمان اور کمزور عقیدے کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت بآسانی اختیار کر لیتی ہے۔
موت کے بعد تعزیت کا مرحلہ آتا ہے، مرنے والے کی جدائی کا صدمہ اور رنج انسان کے جذبات کو بے قابو کر دیتا ہے، انسان ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے آزمائش کے اس موقع پر بھی شیطان انسان کے دین و ایمان پر حملہ آور ہوتا ہے اور لواحقین کو مسنون طریقوں سے ہٹا کر خلاف سنت کاموں ( رونے پیٹنے نوحہ و ماتم کرنے ، کپڑے پھاڑ نے، بال نوچنے سینہ کوبی کرنے، چہرے پر ہاتھ مارنے، سیاہ لباس پہنے وغیرہ) پر لگا دیتا ہے۔ تعزیت کے لئے مسلسل کئی کئی ہفتے خصوصی اجتماعات( متام یا پھوڑی ڈالنا) کا اہتمام کرنا بھی اسی قسم کی جاہلانہ رسومات سے ہیں۔
تعزیت کے بعد تعزیت سے بھی اہم مرحلہ ایصال ثواب کا ہے۔ ہر مسلمان مرد یا عورت ، عالم ہو یا جاہل یہ عقیدہ بہر حال رکھتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو اپنے اعمال کی جزا یا سزا ضرور ملتی ہے، لہذا ہر آدمی اپنے فوت شده اعزہ کو کسی نہ کسی طرح ثواب پہنچانا ضروری سمجھتا ہے۔
مسلمانوں کی اکثریت اپنے معاشرے اور ماحول میں ایصال ثواب کے لئے جو کچھ ہوتا دیکھتی ہے اسے کرنا شروع کر دیتی ہے۔ مثلا رسم قل، رسم فاتحه، رسم سوئم ، ساتوں، دسواں، گیارہواں، بیسواں، چالیسواں، میت کے گھر بڑے کھانے کا اهتمام، قرآن خوانی کا اہتمام، برسی منانا، قبر پرکھانا یا مٹھائی وغیرہ لے جا کر تقسیم کرنا وغیرہ۔
کسی کو اس بات پر سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ان تمام مروجہ اعمال و افعال کا دین کے ساتھ کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں یا یہ تمام افعال محض جہالت، عجمی تصورات اور ہندوانہ رسومات سے متاثر ہو کر ہم نے اختیار کر رکھے ہیں ۔ ایصال ثواب کے یہ طریقے اپنا کر لواحقین اپنے طور پر یہ سجھتے ہیں کہ انہوں نے مرنے والے کے ساتھ اپنے تعلق ، محبت اور عقیدت کا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے اور انہیں یہ بھی اطمینان ہو جاتا ہے کہ کم از کم سال بھر کے لئے تو ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو ہی گئے ہیں۔
سب سے آخر میں زیارت قبور کا مرحلہ آتا ہے، قبروں پر مزار اور قبے تعمیر کرنا، عرس اور میلے لگانا، چراغاں کرنا ، پھولوں کی چادریں چڑھانا ، قبروں کو غسل دینا، قبر کے نزدیک یا دور با ادب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا، قبر پر جھکنا سجدہ کرنا، قبر یا مزار کو بوسہ دینا، قبر یا مزار کا طواف کرنا ، قبر پر بیٹھ کر تلاوت کرتا یا نماز پڑھنا ، اہل قبور کے سامنے اپنی حاجات اور مشکلات پیش کرنا، انہیں حاجت روا سمجھ کر مرادیں مانگنا ، نیز ان سے دعا کی درخواست کرنا ، یہ وہ سارے غیر مسنون افعال ہیں ، جن کا تعلق زیارت قبور سے ہے
باقی آگے قسط نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں
احقر الناس
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
0092300860 4333