حضرت داؤد علیہ السلام کی آواز روئے زمین پر سب سے حسین آواز تھی وہ *زبور* کو ستر سے زیادہ اندا
حضرت داؤد علیہ السلام کی آواز روئے زمین پر سب سے حسین آواز تھی وہ *زبور* کو ستر سے زیادہ انداز میں پڑھتے تھے اور ان کی آواز کے حسن کی شدت ایسی تھی کہ جب وہ تلاوت شروع کرتے تو پرندے درندے اور جانور ان کے گرد جمع ہو جاتے اور ان کی تلاوت سننے لگتے
پرندے سبحان اللہ کی آوازیں نکالتے جیسے قرآن میں آتا ہے کہ ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کیا وہ تسبیح کرتے اور پرندے بھی یہی کرتے تھے یہ منظر ہمارے اور آپ کے تصور سے بڑا ہے آسمان خود جھومتا اور اللہ کا حکم آتا کہ اے پہاڑو داؤد کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندے بھی یعنی جب وہ تسبیح کریں تو تم بھی کرو اور جب خاموش ہوں تو تم بھی رک جاؤ جیسے سب مخلوق کی ایک بڑی جماعت کا نغمہ ہو رہا ہو
وہ شام کے بعد سے رات تک اور چاشت کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندے جمع ہو جاتے جیسے بھیڑ ہو ان کی آوازوں میں نظم ہوتا تھا سب اللہ کے حکم کے تابع ہوتے تھے
ایک اور واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا نرم کر دیا وہ بغیر ہتھوڑے کے ہاتھ سے لوہے کو موم کی طرح موڑتے اور اس سے زرہیں بناتے تاکہ لشکر محفوظ ہو سکے اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مضبوط زرہیں بناؤ اور ان کے جوڑ ناپ تول کر درست کرو یعنی کتنے حلقے ہوں جن میں میخیں لگیں اور آگے پیچھے زرہ کو جوڑیں اور اس کو ربنا نے خود انہیں سکھایا
داؤد علیہ السلام اپنی حکومت کے زمانے میں عدل کی علامت بنے ان کو اللہ نے حکمت اور فیصلہ کرنے کی قوت عطا کی جب کوئی جھگڑا ہوتا تو وہ ایسی حکمت اور دلیل سے بات کرتے کہ دونوں فریق مطمئن ہو جاتے اسی لیے بنی اسرائیل ان سے بے حد محبت کرتے تھے
ایک رات وہ اپنے عبادت کے کمرے میں عبادت کر رہے تھے کہ دو آدمی دیوار پھلانگ کر اندر آ گئے داؤد گھبرا گئے وہ خاموش رہے ان آدمیوں نے کہا نہ ڈریں ہم دونوں جھگڑا کرنے والے ہیں ہمارے درمیان انصاف کریں اور حق سے نہ ہٹیں یہ بات ان کو چڑانے کے لیے کہی گئی اور پھر کہا ہمیں سیدھا راستہ دکھائیں یہ بھی چالاکی سے کہا گیا
پھر ایک بولا یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے کہتا ہے مجھے اپنی بھی دے دو اور بحث میں وہ مجھ پر بھاری ہے یعنی مجھے قائل کرتا ہے کہ میں اس کو دے دوں اور اگر نہ دوں تو طاقت سے لے لے گا
داؤد علیہ السلام نے سن کر کہا اس نے ظلم کیا جو تمہاری بھی مانگ رہا ہے مگر وہ دونوں آدمی غائب ہو گئے داؤد کو سمجھ آ گئی کہ یہ دونوں فرشتے تھے انسان کی صورت میں آئے تاکہ انہیں سکھائیں کہ فیصلہ سنانے سے پہلے دونوں فریق کو سننا ضروری ہے
قرآن کہتا ہے اکثر شریک لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر وہی لوگ جو ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں اور ان کی تعداد بہت کم ہے کیونکہ لوگوں میں دوسروں کا حق کھانا عام ہے
پھر داؤد سمجھ گئے کہ ہم ان کا امتحان لے رہے تھے تو انہوں نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گئے اور فوراً رجوع کیا رجوع یعنی جلدی توبہ کرنا
کیوں داؤد کو یہ سبق ملا اس لیے کہ ان کے بعد ان کا بیٹا سلیمان بھی حکیم ہوگا اور دوسرا یہ کہ اللہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ دنیا کا سب سے دانا شخص بھی غلطی کر سکتا ہے اسی لیے قرآن میں فرمایا جن کو ہم نے ہدایت دی ان کی پیروی کرو
انبیاء کی خطائیں ہمارے لیے سبق ہوتی ہیں داؤد نے سجدہ کیا تو اللہ نے فرمایا ہم نے اسے معاف کر دیا اور ہمارے پاس ان کے لیے بڑی قربت اور بہترین انجام ہے
داؤد ہر نبی ہر قاضی ہر حاکم کے لیے مثال ہیں اللہ نے فرمایا اے داؤد ہم نے تمہیں زمین میں نائب بنایا ہے لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو اور خواہش کے پیچھے نہ چلو
یہ پیغام داؤد کے لیے ہے اور جو اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہے کیونکہ انہوں نے قیامت کے دن کو بھلا دیا
یہ قرآن کی عظمت ہے بیان کی قوت ہے واقعات کا تسلسل اور الفاظ کی ہم آہنگی ہے اپنے دین اور اپنے نبی پر فخر کرو اور کہو الحمدللہ اسلام کی نعمت پر
اگر آپ نے یہ مکمل پڑھ لیا ہو تو دل سے درود بھیجو نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔