October 29, 2026

5 اگست 1947پورا ہندوستان ایک ہلچل میں تھا۔ گرمی کی شدت سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں جلتی ہوئی اضطراب کی آگ تھی، جو ہر آتی جاتی خبر سے تیز ہوتی جا رہی تھی۔

IMG-20250719-WA0158

‎5 اگست 1947
‎
‎پورا ہندوستان ایک ہلچل میں تھا۔ گرمی کی شدت سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں جلتی ہوئی اضطراب کی آگ تھی، جو ہر آتی جاتی خبر سے تیز ہوتی جا رہی تھی۔ دہلی کی گلیوں میں گھومتے ہوئے ہر چہرہ سوالوں سے بھرپور تھا — آزادی کا سورج کب طلوع ہوگا؟ بٹوارہ کی لکیر کس کے دروازے کو چیر جائے گی؟
‎
‎صبح کے وقت دہلی، لاہور، کلکتہ، امرتسر، پشاور، بمبئی— ہر طرف اخبارات کی دکانوں پر ہجوم تھا۔ لوگ اخبار کھول کر کانپتے ہاتھوں سے پڑھتے، خاص کر انگریزی اخبارات میں باؤنڈری کمیشن کی سرسری رپورٹوں کا ذکر دیکھ کر ان کے دل بیٹھ جاتے۔ آل انڈیا ریڈیو پر گھنٹوں کان لگائے بیٹھے لوگ کوئی خوشخبری سننے کے متلاشی تھے، مگر آوازوں میں صرف سیاسی بیان، تردیدیں اور گمبھیر خاموشی تھی۔
‎
‎صبح دس بجے کے قریب دہلی میں وائسرائے ہاؤس (موجودہ راشٹرپتی بھون) کے باہر کچھ انگریز فوجیوں نے چپ چاپ بیریئر نصب کیے، کوئی ہنگامہ نہ تھا مگر ماحول میں ایک عجیب سنسنی خیز تھرتھراہٹ تھی۔ اندر، لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی قیادت میں ہندوستان کی تقسیم سے متعلق آخری تفصیلات پر بات چیت ہو رہی تھی، جبکہ باہر گارڈز کی نظروں میں پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ انہیں اندازہ تھا کہ برٹش راج کے یہ آخری دن اب تاریخ بننے والے ہیں۔
‎
‎لاہور میں، مال روڈ پر ایک دوپہر کی ہلکی سی ہوا کے ساتھ بینرز لہرا رہے تھے — “پاکستان ہمارا حق ہے”، “لبیک یا قائد” — اور ساتھ ہی دیواروں پر نئی تحریریں ابھر رہی تھیں۔ کچھ فاصلے پر انگریز پولیسمین کھڑے تھے، اور مقامی نوجوانوں کی آنکھوں میں ان کے لیے اب کوئی ڈر نہ رہا تھا۔ بازاروں میں دکاندار اپنے مال کی سیل لگا رہے تھے — کوئی جانتا تھا، یہ مال کس ملک میں بکنے والا ہے؟
‎
‎کراچی میں، محمد علی جناح اپنے قریبی رفقاء کے ساتھ ایک بند کمرے میں بیٹھے پاکستان کے آئندہ دارالحکومت، اس کی مالی حالت، اور نوکری پیشہ طبقے کی آباد کاری پر بحث کر رہے تھے۔ باہر کھڑے رضاکار نوجوان، ہاتھوں میں سبز پرچم لیے، “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگا رہے تھے، مگر انہیں نہ معلوم تھا کہ چند دن بعد وہی سڑکیں، ان کے قدموں تلے، ہجرت کے خونی قدموں سے رنگین ہوں گی۔
‎
‎اس روز بنگال اور بہار کے بعض علاقوں میں مسلم اور ہندو کمیونٹیز کے درمیان ایک بار پھر معمولی جھڑپیں ہوئیں۔ بچوں کی چیخیں، عورتوں کی سسکیاں، اور جلتے گھروں کی بو— انسانیت کی بے بسی کا نوحہ لکھ رہی تھیں۔
‎
‎مگر اس سب کے باوجود، ایک امید کی کرن تھی۔ لوگ روتے تھے، ڈرتے تھے، مگر اندر ہی اندر ایک احساس انہیں سنبھالے رکھتا تھا — “یہ سب آزادی کے لیے ہے… یہ سب قربانی، ایک نئے سورج کے استقبال کی تیاری ہے۔”
‎
‎اور یوں، 5 اگست 1947 کا سورج، بے چینی، امید، اور گمبھیر خاموشی کے سائے میں غروب ہو گیا… مگر یہ دن، ہر دل پر ایک نقش چھوڑ گیا، جیسے وقت کی دیوار پر خراش بن گئی ہو۔
‎
‎@@@@@@@
‎