شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جن نجی کمپنیوں سے بجلی بنانے کے معاہدے کیے تھے وہ سب معاہدے بلڈ آپریٹ اینڈ ٹرانسفر کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔ یعنی تمام پروجیکٹ 20 سال کی مدت پوری ہونے کے بعد بلاقیمت حکومت پاکستان کی ملکیت ہو جاتے ۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جن نجی کمپنیوں سے بجلی بنانے کے معاہدے کیے تھے وہ سب معاہدے بلڈ آپریٹ اینڈ ٹرانسفر کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔ یعنی تمام پروجیکٹ 20 سال کی مدت پوری ہونے کے بعد بلاقیمت حکومت پاکستان کی ملکیت ہو جاتے ۔
1997 میں سپریم کورٹ نیب اور میاں محمد نواز شریف کی بدترین بدمعاشی کے بعد سارے فارن انویسٹر کو بھگا دیا گیا ۔ تمام پروجیکٹ جو لگ چکے تھے وہ نواز شریف کے انویسٹرز نے خریدے اور بلڈ آپریٹ اینڈ ٹرانسفر کی شرط اڑا دی گئی۔
بے نظیر بھٹو کے معاہدوں میں منافع روپے میں دیا جانا تھا۔ نواز شریف کے معاہدوں میں منافع ڈالر میں تجویز کیا گیا ۔
بے نظیر بھٹو کے معاہدوں میں پہلے پانچ سال کی قیمت زیادہ سے زیادہ رہنی تھی اور ہر پانچ سال کے بعد قیمت کم ہونا تھی۔
یہ شرط بھی 1997 میں ختم کر دی گئی۔
2007 میں دوبارہ معاہدوں میں ترمیم پرویز مشرف کے دور میں کی گئی۔
اس کے بعد 2017 میں بدترین مجرمانہ معاہدے 10 سال کے لیے ایکسٹینڈ کیے گئے۔
2007 اور 2017 کے ترمیمی معاہدے اس لائق ہیں کہ پرویز مشرف اور نواز شریف دونوں کو سزائے موت دی جائے ۔