انتشارپسند شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ واقعہ کی نوعیت کیا اور کہاں کا ھے بس تصویر کاپی
🌐انتشارپسند شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ واقعہ کی نوعیت کیا اور کہاں کا ھے بس تصویر کاپی کرکے پراپیگنڈہ کرتے ہیں اور پھر ناسمجھ لوگ گالی دے کردھڑادھڑ شیٸر کرتے ہیں۔۔۔زیر نظر واقعہ 23 جولاٸی چارسدہ کےعلاقہ ماجوگے کا ھے جہاں بارش سے آنے والی سیلابی پانی میں یہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ھوا تھا جسے اس بچے کے والد نے فاروق اعظم چوک چارسدہ میں ھاتھوں میں اٹھا کر احتجاج کی تھی جبکہ انتشاری جھوٹے و بےشرم لوگ اسے باجوڑ آپریشن میں ریاست کے ھاتھ ظلم قرار دیے کر گھناونا پروپیگنڈا کررھے ہیں۔۔۔باجوڑآپریش اپنی جگہ ایک ظلم و بربریت ھے۔۔۔وہ الگ بات ھے مگر فیک نیوز کی بھرمار بھی قابل تشویش ھے۔۔مگر قابل افسوس امر یہ ھے کہ شاندانہ گلزار جیسی ذمہ دار ممبر قومی اسمبلی بھی فیک پوسٹ کرکے انتشاریوں کی صفوں میں خوش ھے۔۔۔۔دا نور انتشاران ھو بہ چرتہ خوار خوشی وی ھو دے شاندانے تہ پکے لا گورہ۔۔۔۔