میلسی (بیو رو چیف ) میلسی میں چینی کی قیمتوں نے پر پُرزے نکال لیے ہیں، بازاروں میں چینی کی فروخت یا تو محدود ہو چکی ہے یا اس
میلسی (بیو رو چیف ) میلسی میں چینی کی قیمتوں نے پر پُرزے نکال لیے ہیں، بازاروں میں چینی کی فروخت یا تو محدود ہو چکی ہے یا اس کے نرخ عوام کی قوتِ خرید سے باہر جا پہنچے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اس بنیادی شے کی قلت اور مہنگائی نے متوسط طبقے اور غریب عوام کی کمر مزید جھکا دی ہے۔شہری حلقوں میں بے چینی اور اضطراب کی فضا بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ سارا دن گھومنے کے بعدبھی چینی حاصل نہیں کر پاتے، اور اگر کہیں دستیاب ہو بھی جائے تو نرخ اتنے بلند ہوتے ہیں کہ عام آدمی کے لیے خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔چینی کے ڈیلروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے جو نرخ مقرر کیے ہیں، ان پر فروخت کرنے سے انہیں مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق چینی انہیں ہول سیل میں مہنگی دستیاب ہوتی ہے جبکہ سرکاری نرخوں پر فروخت کرنے سے کاروباری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔دوسری جانب عوامی نمائندے اور سماجی حلقے حکومت وقت سے پُرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر چینی کی سپلائی کو یقینی بنائے، نرخوں میں استحکام پیدا کرے، اور ذخیرہ اندوزوں و ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ چینی کی یہ مصنوعی قلت ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کا خمیازہ عوام ہی کو بھگتنا پڑے گا۔