سکھر (بیوروچیف دعاآن لائن نیوز سیدضیاءالرحمٰن) شیعہ علماء کونسل و دیگر شیعہ حیدر قرار تنظیموں کی جانب سے وزیر داخلہ کی طرف سے اربعینِ حسینی کے زیارتی
سکھر (بیوروچیف دعاآن لائن نیوز سیدضیاءالرحمٰن) شیعہ علماء کونسل و دیگر شیعہ حیدر قرار تنظیموں کی جانب سے وزیر داخلہ کی طرف سے اربعینِ حسینی کے زیارتی پیدل قافلے پر عائد پابندی کے نوٹیفکیشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے سکھر پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے نوٹیفکیشن کو آئین و قانون، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے خلاف قرار دیا اور اسے فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت صوبائی معصول کے صدر مولانا ریاض حسین روحانی، شیعہ علماء کونسل سکھر کے صدر سید جواد شاہ رضوی، سربراہ شیعہ رابطہ کونسل مولانا علی بخش سجادی، سید کاظم، مولانا لیاقت حسین، جعفریہ یوتھ اور دیگر شیعہ تنظیموں کے عہدیداران نے کی۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں نوجوان، اور بزرگ افراد شریک ہوئے، جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “اربعین پر پابندی نامنظور”، “مذہبی آزادی ہمارا حق ہے” جیسے نعرے درج تھے۔مقررین نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اربعینِ حسینی کا پیدل قافلہ نہ صرف ایک مذہبی روایت ہے بلکہ یہ اہل بیتِ اطہارؑ سے محبت اور عقیدت کا عملی مظاہرہ بھی ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے امن و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ اس پر پابندی عائد کرنا نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔مولانا ریاض حسین روحانی نے خطاب میں کہا کہ اربعینِ حسینی کا سفر کوئی سیاسی جلسہ یا احتجاج نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی سفر ہے جس کا مقصد کربلا والوں کی یاد تازہ کرنا اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اگر حکومت نے یہ پابندی واپس نہ لی تو ملک بھر میں شیعہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔دیگر رہنماؤں نے بھی حکومت کو خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام کے اندر اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ اپنا فیصلہ فوری طور پر واپس لیں اور اربعین قافلے کو مکمل سیکیورٹی کے ساتھ روانگی کی اجازت دی جائے۔مظاہرہ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، تاہم شرکاء نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا، اور احتجاج کا دائرہ بڑھا کر صوبائی و ملکی سطح تک پھیلایا جائے گا۔