مسجد نبوی شریف میں تحفیظ القرآن الکریم کے 1900 سے زائد حلقات ہیں جہاں 60ہزار طلبہ یومیہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے ہیں
مسجد نبوی شریف میں تحفیظ القرآن الکریم کے 1900 سے زائد حلقات ہیں جہاں 60ہزار طلبہ یومیہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے ہیں جب کہ 1300 قاری اور قاریات ان بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت پر مامور ہیں ۔
مدینہ منورہ میں صرف ایک الجمعیة الخيرية لتحفيظ القرآن الكريم کے تحت مختلف جگہوں پر 1111قرآنی حلقات قائم ہیں جہاں 25648 بچے زیر تعلیم ہیں ۔
سعودی عرب کی تقریباً ہر مسجد میں حفظ قرآن مجید کے حلقات قائم ہیں ۔
مدینہ منورہ میں اپنے دس سالہ قیام کے دوران ہمیں ان حلقات میں بیٹھنے اور ان سے مستفید ہونے کا شرف ملا،ان حلقات میں ہر زبان اور ہر ملک کے طلبہ ہوتے ہیں لیکن کبھی ہم نے استاد کو نہیں دیکھا کہ وہ بچوں کے ساتھ مار پیٹ کر رہا ہو ۔
برصغیر کے علاوہ کہیں بھی قرآن مجید پڑھتے بچوں کے ساتھ مار پیٹ کا سلسلہ نہیں ہے ۔
سوات میں قاری کے تشدد سے مدرسے کا بچہ جان سے چلا گیا،ایک قاری جب مار مار کر تھک گیا اسکی مدد کیلئے دوسرا قاری کمک لیکر پہنچ گیا اس نے بھی بچے کے ننھے وجود کے ساتھ فٹبال کھیلا ،بچے کا تشدد زدہ جسم دیکھا نہیں جاتا ۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ قاری کے قہر کا کوئی بچہ شکار ہوا ہو ۔
جنوری 2018 میں کراچی کے بن قاسم ٹاؤن میں نو سالہ طالب علم محمد حسین کو قاری نجمالدین نے تشدد کرکے ہلاک کیا۔
ستمبر 2023لاہور کے علاقے ملت پارک میں 13سالہ طالب علم انس پر قاری شعیب نے شدید جسمانی تشدد کرکے بچے کو ہلاک کیا ۔
جولائی 2025ضلع وہاڑی میں چھ سالہ مبشر کو قاری عمران یعقوب نے تشدد کرکے شدید چوٹوں کا نشانہ بنایا، جس کے سبب اس کی موت واقع ہوئی۔
یہ چند واقعات ہیں تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔
قرآن مجید کی تعلیم دینا بڑی سعادت کی بات ہے تعلیم دینے والے کو زبان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر ہونے کا سرٹیفیکیٹ ملا ہے ۔
اقبال نے قاری سے متعلق کہا تھا کہ
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
لیکن بدقسمتی سے قاریوں کے بھیس میں کچھ شیطان صفت لوگ بھی اس شعبے میں آ گئے ہیں ۔
ذمہ دار دینی مدارس کے زعماء کو چاہیے کہ ایسے واقعات کے تدارک کیلئے کام کریں۔ یہ واقعات مدارس کی بدنامی اور قرآن مجید سے دوری کا باعث بن رہے ہیں ۔
بقلم خود فردوس جمال!!!