October 29, 2026

مولانا مودودی کی کتاب خلافت اور ملوکیت سے اقتباس ۔

IMG-20250702-WA0105(1)

مولانا
مودودی کی کتاب خلافت اور ملوکیت سے اقتباس ۔
سیدنا امام حسین علیہ السلام کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھا ۔یہ سب یزید کے ایماء پر ہوا اور کسی بھی صورت میں یزید کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔اور جو لوگ یزید کو خطاء وار نہیں سمجھتے۔ ان کے لئے یزید کے دور میں دوسرا بڑا سانحہ مولانا مودودی کی زبانی ۔
*سانحہ “واقعہ حَرّہ”*
(یزید کے دور میں امام حسین کی شہادت اور) اس کے بعد دوسرا سخت المناک واقعہ جنگ حرہ کا تھا جو ۶۳ ھ کے آخر اور خود یزید کی زندگی کے آخری ایام میں پیش آیا۔ اس واقعے کی مختصر روداد یہ ہے کہ اہل مدینہ نے یزید کو فاسق و فاجر اور ظالم قرار دے کر اس کے خلاف بغاوت کر دی، اس کے عامل کو شہر سے نکال دیا اور عبداللہ بن حنظلہ کو اپنا سر براہ بنالیا۔ یزید کو یہ اطلاع پہنچی تو اس نے مسلم بن عقبہ المری کو (جسے سلف صالحین مصرف بن عقبہ کہتے ہیں ) ۱۲ ہزار فوج دے کر مدینہ پر چڑھائی کے لیے بھیج دیا، اور اسے حکم دیا کہ تین دن تک اہل شہر کو اطاعت قبول کرنے کی دعوت دیتے رہنا، پھر اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرنا، اور جب فتح پالو تو تین دن کے لیے مدینہ کو فوج پر مباح کر دینا۔ اس ہدایت پر یہ فوج گئی۔ جنگ ہوئی ، مدینہ فتح ہوا، اور اس کے بعد یزید کے حکم کے مطابق تین دن کے لیے فوج کو اجازت دے دی گئی کہ شہر میں جو کچھ چاہے کرے۔ ان تین دنوں میں شہر کے اندر ہر طرف لوٹ مار کی گئی ، شہر کے باشندوں کا قتل عام کیا گیا جس میں امام زہری کی روایت کے مطابق ، سات سو معززین اور دس ہزار کے قریب عوام مارے گئے، اور غضب یہ ہے کہ وحشی فوجیوں نے گھروں میں گھس گھس کر بے دریغ عورتوں کی عصمت دری کی۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ، (کہا جاتا ہے کہ ان دنوں میں ایک ہزار عورتیں زنا سے حاملہ ہوئیں )۔
بالفرض اہل مدینہ کی بغاوت نا جائز ہی تھی ، مگر کیا کسی باغی مسلمان آبادی، بلکہ غیر مسلم باغیوں اور حربی کافروں کے ساتھ بھی اسلامی قانون کی رو سے یہ سلوک جائز تھا ؟ اور یہاں تو معاملہ کسی اور شہر کا نہیں، خاص مدینہ الرسول کا تھا جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات بخاری ، مسلم ، نسائی اور مسند احمد میں متعدد صحابہ سے منقول ہوئے ہیں کہ ” مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اسے جہنم کی آگ میں سیسے کی طرح پگھلا دے گا“ اور ” جو شخص ابل مدینہ کو ظلم سے خوف زدہ کرے اللہ اسے خوف زدہ کرے گا۔ اس پر اللہ اور ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے روز اللہ اس سے کوئی چیز اس گناہ کے فدیےمیں قبول نہ فرمائے گا۔“
حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ انھی احادیث کی بنیاد پر علماء کے ایک گروہ نے یزید پر لعنت کو جائز رکھا ہے، اور ایک قول ان کی تائید میں امام احمد بن حنبل کا بھی ہے، مگر ایک دوسرا گروہ صرف اس لیے اس سے منع کرتا ہے کہ کہیں اس طرح اُس کے والد یا صحابہ میں سے کسی اور پر لعنت کرنے کا دروازہ نہ کھل جائے۔
حضرت حسن بصری کوایک مرتبہ یہ طعنہ دیا گیا کہ آپ جو بنی امیہ کے خلاف خروج کی کسی تحریک میں شامل نہیں ہوتے تو کیا آپ اہل شام (یعنی بنی امیہ ) سے راضی ہیں؟ جواب میں انھوں نے فرمایا: میں اور اہل شام سے راضی ہوں؟ خدا ان کا ناس کرے، کیا یہ وہی نہیں ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کو حلال کر لیا اور تین دن تک اس کے باشندوں کا قتل عام کرتے پھرے، اپنے نبطی اور قبطی سپاہیوں کو اس میں سب کچھ کر گزرنے کی چھوٹ دے دی اور وہ شریعت دین دار خواتین پر حملے کرتے رہے اور کسی حرمت کی ہتک کرنے سے نہ رکے۔ پھر بیت اللہ پر چڑھ دوڑے، اس پر سنگ باری کی اور اس کو آگ لگائی۔ ان پر خدا کی لعنت ہو اور وہ برا انجام دیکھیں ۔
تیسرا واقعہ وہی ہے جس کا حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے آخر میں ذکر کیا ہے۔ مدینہ سے فارغ ہونے کے بعد وہی فوج جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےحرم میں یہ اودھم مچایا تھا ، حضرت ابن زبیر سے لڑنے کے لیے مکہ پر حملہ آور ہوئی اور اس نے منجنیقیں لگا کر خانہ کعبہ پر سنگ باری کی جس سے کعبہ کی ایک دیوار شکستہ ہو گئی۔ اگر چہ روایات یہ بھی ہیں کہ انھوں نے کعبہ پر آگ بھی برسائی تھی۔ لیکن آگ لگنے کے کچھ دوسرے وجوہ بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ البتہ سنگ باری کا واقعہ متفق علیہ ہے۔ ) ان واقعات نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ یہ حکمران اپنے اقتدار اور اس کےبقا و تحفظ کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے، اور اس کے لیے انھیں کسی حد کو پھاند جانے اور بڑی سے بڑی حرمت کو توڑ ڈالنے میں بھی باک نہ تھا۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ
خلافت و ملوکیت صفحہ نمبر 182