اسلام میں محرم الحرام کی اہمیت خصوصی تحریر :راجہ نور الہی عاطف
اسلام میں محرم الحرام کی اہمیت
خصوصی تحریر :راجہ نور الہی عاطف
اسلامی تقویم کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے ۔ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی ا عنہ اور آپ رضی اللہ تعالی ا عنہ کے اہل بیت و انصار رضوان اللہ تعالی ا اجمعین کی یہ پوری عظمت و افتخار شہادت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ کیسی عظیم یاد ہے اور افتخار امتیاز قصہ ہے جو اس یاد سے وابستہ ہے ۔ “یہ روحانی اقدار کی سچائی کی بھی مثالی گواہی کی یاد ہے ، یہ انبیاء کی تعلیمات کے برحق ہونے کے اظہار کی یاد ہے ، یہ ابلیسی قوتوں کے زعم باطل کے ٹوٹ جانے کی یاد ہے اور یہ حق و باطل کے مابین حد فاصل کے دائمی طور پر مشخص کر دینے والے لمحات کی یاد ہے “۔ اسی لیے تو پیغمبر حق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ :
حسین رضی اللہ تعالی اعنہ ہدایت کا چراغ اور نجات کا سفینہ ہیں۔ سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اپنے خون سے حق کی شہادت رقم کی ہے ۔ ماہ محرم کی اہمیت و فضیلت کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالی ا نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی ۔ یوم عاشورا ہی کو جنت پیدا فرمائ۔ یوم عاشورا ہی کو سفینہ نوح جودی پہاڑ پر ٹھہرا ۔ یوم عاشورا ہی کو حضرت موسی ا علیہ السلام اور ان کی قوم نے فرعون سے نجات حاصل کی اور اللہ تعالی ا نے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کیا ۔ اگر ایک طرف محرم فضائل و برکات کا مہینہ ہے تو اسی کے ساتھ اس مہینہ سے بہت سے دردناک تاریخی حوادث و واقعات وابستہ ہیں ۔ تاریخ اسلام کا صفحہ محرم الحرام مظلومان کربلا رضوان اللہ تعالی ا اجمعین کے لہو سے تر بتر نظر آتا ہے ۔ اہل بیت رضوان اللہ تعالی ا اجمعین کی اولوالعزمی، سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سردار نوجوانان جنت کی ایمانی صلاحیت ، حق گوئی و بے باکی ، صبر و تحمل ، ہزیمت و استقامت کی داستان ہر مسلمان کو عزم و حوصلہ اور باطل کے سامنے سینہ سپر رہنے کی ہمت بخشتی ہے تو دوسری جانب یزیدی فوج کی سنگ دلی ،بے رحمی ، بے حسی اور جبر و استبداد ، خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حرمتی ، اہل بیت رضوان اللہ تعالی اجمعین اور مظلومان کربلا رضوان اللہ تعالی اجمعین کی تحقیر اور ان کو ناحق تہہ تیغ کرنے کی چینگزی حرکات تاریخ کا حصہ ہیں۔
بہرحال ایک طرف سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی ا عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں رضوان اللہ تعالی اجمعین کی دین اسلام کی آبیاری کے لیے لازوال قربانیاں سامنے ہیں اور دوسری طرف یزید اور اس کے حواریوں کی ظلم و جبر کی داستانیں ہیں۔ معرکہ ءکربلا کے دونوں اعتراف کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کتنا ضروری تھا کہ سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی ا عنہ اٹھتے اور حقیقت دین کو آشکار کرتے اور حق و باطل کے مابین ایک ایسی حد فاصل قائم کرتے کہ کبھی کسی طالب حق پر رائے حق مشتبہ نہ ہوتی ۔ شاعر مشرق حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال کہتے ہیں :۔
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
بہرحق در خاک وخوں غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ دست