October 2, 2026

ستلج کی تہذیب کا بھیانک خاتمہ

IMG-20250701-WA0157

ستلج کی تہذیب کا بھیانک خاتمہ
میلسی سائفن کی تعمیر کے بعد میلسی کے مقام پر دریائے ستلج کے بیٹ کی چوڑائی 14 کلومیٹر بچ گئی ہے ۔میرے بزرگ بتاتے ہیں کہ 1970 تک دریائے ستلج کے بیٹ میں بڑی جھاڑیاں اور قدرتی جنگل میں جنگلی سور ، بھیڑئیے ، گیدڑ ،لومڑیاں ، جنگلی بلے ، مرغیاں ، خرگوش اور مختلف انواع کے جانور چرند پرند رہا کرتے تھے ۔یہ ایک بہت بڑا جانوروں کا مسکن تھا ۔
لیکن دریائے ستلج کے مسلسل سوکھ جانے کے بعد ان انواع میں سے اب صرف کہیں کہیں گیدڑ یا لومڑی نظر آ جاتی ہے باقی تمام انواع ختم ہو کر رہ گئی ہیں یا انسانوں کی بے جا مداخلت سے یہاں سے دور چلی گئی ہیں ۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ یہ تقریباً آپ 14 کلومیٹر چارو سائڈ دیکھیں تو کتنا بڑا دریا ہے کتنی بڑی آبی اور جنگلی تہذیب کا خاتمہ ہوا ہو گا ؟
اس میں مچھلیاں ، کچھوے ، گھڑیال اور جنگلی جڑی بوٹیاں علیحدہ ہیں۔ کبھی تصور کریں تو یہ ایک ایٹمی جن گ جیسا نقصان نظر آتا ہے کہ اتنی بڑی انواع کا گھر ایک دم تیزی سے ختم ہو جائے اور ہمیں پرواہ بھی نہ ہو ۔
کیا ہمارے لئیے بھی فرشتے پر بچھاتے ہونگے ؟ مچھلیاں چرند پرند دعا کرتے ہونگے ؟