سنتا جا اور مسکراتا جا۔۔۔
سنتا جا اور مسکراتا جا۔۔۔
ایڈریسز غلط تھے تو پانچ لاکھ راشن کے پیکٹس کہاں تقسیم ہوے سوالیہ نشان !!
رمضان نگہبان پیکج 2024 میں مالی بے ضابطگیوں،
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ میں سرکاری افسران کی جانب سے کی گئی اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
ایک ارب 63 کروڑ کے پیکٹ لاہور ، رحیم یار خان ، فیصل آباد اور روالپنڈی میں 4 لاکھ 41 ہزار وصول کنند گان کو نہیں ملے ،
غیر اہل 9300 سرکاری ملازمین نے 3 کروڑ 46 لاکھ کا راشن ہڑپ کیا
،لاہور سے غیر اہل سرکاری ملازمین کی تعداد 4,305 رحیم یار خان سے 961 فیصل آباد سے 2,211 اور راولپنڈی سے ملازمین کی تعداد 1,823 ہے
غلط ڈیٹا کی وجہ سے 1 ارب 81 کروڑ روپے ضائع ہوے ،پانچ لاکھ کے قریب پیکٹ ایسے وصول کنندگان کو دیے گئے جن کے ایڈریس غلط تھے ، جیسے صرف لاہور یا پی کےلکھا ہوا،نامکمل ڈیٹا کی وجہ سے 16,597 کیسز میں نام اور فون نمبر غائب تھے، آڈٹ رپورٹ
ایڈریسز غلط تھے تو پانچ لاکھ راشن کے پیکٹس کہاں تقسیم ہوے سوالیہ نشان !!
ٹرانسپورٹ کی مد میں 13 کروڑ سے زائد کا نقصان ریکارڈ ہوا ،
لاہور میں ہر پیکٹ کی ترسیل پر 597 روپے خرچ ہوئے جبکہ دیگر اضلاع میں اوسطاً 138 روپے رہا ، آڈٹ رپورٹ
بیس کروڑ سے زائد رقم کے 55,927 نا اہل افراد کو پیکٹس ملے ،
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے معیار چیک کرنے میں غفلت کی، آڈٹ رپورٹ