9مٸی ریمانڈ کیس
اہم آبزرویشن۔۔۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ جیسے 1 کیس سے ضمانت ہوتی تو نئے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے،،فوجداری قانون یہ کہتا ہے کہ جیسے ہی پتہ چلے کہ مقدمہ درج ہے تو فوری کارروائی ہونی چاہیے یہاں ملزم جیل میں تھا پھر بھی کارروائی نہیں کی گئی جسٹس انوار الحق پنوں
مٸی ریمانڈ کیس
یہ سب اس صورت میں ہے کہ جب ملزم عبوری ضمانتوں پر نہ ہو پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ کا عمران خان کی ایک کے بعد ایک مقدمہ میں گرفتاری ڈالنے پر عدالت میں موقف
عبوری ضمانت کا مطلب ہوتا ہے کہ ملزم کو شامل تفتیش کرنا کیا ملزم کو شامل تفتیش کیا گیا ،جسٹس انوار لحق پنوں ایک سال آپ لوگ کہاں رہے، کیا کرتے رہے،اب یاد آگیا،،،جسٹس انوار الحق پنوں
مٸی ریمانڈ کیس
جسٹس انوار الحق پنوں پراسکیوشن اور تفتیشی کی بدنیتی بتاتے ہوئے۔۔۔1 سال سے یہ مقدمے تھے تب گرفتاری کیوں نہیں ڈالی گئی،،جیسے ہی انکی رہائی کی امید ہوئی آپ کو جسمانی ریمانڈ یاد آگیا ،ان سوالات کے جوابات آنا بہت ضروری ہیں،،، جسٹس انوار الحق پنوں