October 5, 2026

صدر سٹی پریس کلب رجسٹرڈ ہارون آباد ڈاکٹر عارف رضا ملک کے قلم سے۔

IMG-20250429-WA1129

صدر سٹی پریس کلب رجسٹرڈ ہارون آباد ڈاکٹر عارف رضا ملک کے قلم سے۔
ہیں مشکل بھت ہی بندہ مزدور کے اوقات یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر مزدور بے چاروں کی چھٹی کے بجائے سرکاری چھٹی ہوتی ہے اور مزدور سخت گرمی دھوپ میں بچوں کے پیٹ پالنے کے لیے محنت کر رہے ہوتے ہیں
مزدوروں کا عالمی دن

پاکستان اور پوری دنیا میں محنت کشوں کا عالمی دن ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے، غربت، بیروزگاری، مہنگائی اور کم معاوضہ آج بھی مزدوروں کے بڑے مسائل ہیں۔
اس دن دنیا بھر میں عام تعطیل ہونے کے باوجود ‘ محنت کش مزدور اس دن کی اہمیت سے بے خبر اپنے بچوں کی روٹی کے لیے کام میں جتے رہتے ہیں۔یوم مزدور ‘ 1886 کو یکم مئی ‘ امریکا کے شہر شکاگو کے مزدور، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی جانب سے کیے جانے والے استحصال پر سڑکوں پر نکلے تھے لیکن پولیس نے جلوس پر فائرنگ کرکے سیکڑوں مزدوروں کو ہلاک اور زخمی کردیا تھا-
“باپ مرا ہے مزدوری میں
بچے آس تلے سو گئے ہیں ”
جبکہ درجنوں کو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے پر پھانسی دی گئی۔شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دنیا کے بیشتر ممالک میں یکم مئی کو محنت کشوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
یکم مئی کو ہر سال یہ دن اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مزدوروں کے معاشی حالات تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔پاکستان میں قومی سطح پر یوم مزدور منانے کا آغاز 1973 میں عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا، اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں مزدوروں کی حالت زار
مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کشوں کو آج بھی صحت کی سہولتوں سمیت سوشل سکیورٹی تک دستیاب نہیں، مہنگائی کے دور میں بچوں کو پڑھانا اور دو وقت کی روٹی کھلانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
محترمہ نظیر بھٹو نے اپنے بابا جان اور لیڈر کی پیروی کرتے ہوئے مزدور طبقے کے لیے آواز اٹھائی تھی۔چیرمین بلاول صاحب مزدوروں کے حقوق کے لیے کوشاں و سرگرم ہیں –
پاکستان میں مزدور اور محنت کش طبقے کو چیلنجز کا سامنا ہے، مزدوروں کی اجرت سے متعلق منصفانہ طرزعمل اپنائیں جائیں-