میرا بھائ میرا غمخورا
محمدمختارسولگی
قارئین میں عرصہ 4سال سال سے صحت کے مسائل میں گھرا ہوا ہوں اور میرے تمام دوست جانتے ہیں کے 4سال قبل حادثے کا شکار ہونیکے بعد سے میں مسلسل صحت کے مسائیل میں ہی گھرا ہوا ہوں۔پچھلے دنوں ایک صاحب جو بڑے بھائی(خدایار خان سولگی مرحوم) کے دوست تھے اور کافی عرصہ سے سعودی عرب میں مقیم تھے ،وہ اپنے طور پر بھائی کو ملنے کے لیے ہمارے گاؤں تشریف لائے جب انہیں معلوم ہوا کہ انہیں دنیا سے گئے تو چار سال ہوگئے ہیں اور مجھے بھی چارسائیل سے زیادہ عرصہ سے بیماریوں نے گھیر رکھا ہے تو وہ اچانک دھاڑیں مار کر رونے لگے ۔واضح رہے ہمارے ںڑے بھائ جان صرف 52 سال کی عمر میں ہمین چھوڑکر ادی مقام پر چلے گئے، میں انکے زیادہ نزدیک تھا۔ وہ بالکل صحت مند ،چاک و چوبند تھے ۔شام کو ہلکی سی گھبراہٹ ہوئی۔ چونکہ میں فرسٹ ایڈ دے سکتاتھا مگر ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انکی ٹریٹ منٹ نہیں کرسکتا تھا تو بچے انہیں قریبی ہسپتال لے بھاگے۔لیکن بقسمتی سے ہنستا کھیلتا انسان گھر کی سواری، روڈ پر گھر،اور بغیر کسی رکاوٹ کے صرف تین منٹ میں ہسپتال میں موجود تھے لیکن افسوس کہ سانس باقی نہ تھے ۔ ایسی باتیں سنکر انکے دوست کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلدی اس دنیا سے کوچ کرگئے۔ بقول انکے ہم نے انکے ساتھ ذیادتی کی۔ انکی موت کی خبر تو دیتے۔ انکا کہنا تھا کہ مرحوم
ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے وہ علاقہ بھر پنجاب کے سیاسی و سماجی حلقوں میں جانے اور جاتے تھے ۔ بقول انکے کہ میری ان سے پچیس سال کے لگ بھگ شناساٸی تھی میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا مخلص انسان شایدہی کوٸی شخص دیکھا ہو صرف مخلص ہی نہیں ایک نڈر شخص تھا وہ ایک سچا اور کھرا انسان تھا لوگوں کے کاموں میں بھر پور دلچسپی لیتا ۔ان پڑھ ہونیکے باوجود ارباب اختیار سے لوگوں کے مساٸل حل کروانا اس کے جیسے باٸیں ہاتھ کا کام تھا۔ علاقے کی تعمیر وترقی کے لٸے بھاگم دوڑ کرنا شاید اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ وہ دوستوں کا دوست تھا اور ہر وقت غریب لوگوں کے مسائیل حل کروانیکے لئیے عاقہ کے لوگوں لوگوں کے کاموں میں مگن رہتا تھا ۔علاقے کے لوگ ایک مخلص ساتھی سے محروم ھو گئے ہیں۔ یہ خلا شاید برسوں پر نہ ہو سکے
ایسی مزید چند دل کو دکھانیوالی اور بھائی کی یادیں تازہ کرنیوالی باتیں کرکے وہ دوست تو چلاگیا لیکن سوچنے کیلئے بہت سا مواد دے گیا۔ ہم صرف انکے ایثالِ ثواب اور انکی خواہش پورا کرنیکے لئیے علاقے کے مستحق اور ضرورت مند لوگوں کییلئے چھوٹی سی فری فرسٹ ایڈ سروس شروع کی تھی جو الحمد للہ ابھی جاری ہے اور اسکی نگرانی میں ہی کررہا ہوں۔
انکی خواہشات میں سے صرف ایک اہم خواہش پر عمل پیرا ہیں لیکن باوجود کوششوں کے انجیے نہیں بن پا رہے۔ ان ایک شخص میں جتنی خوبیاں تھیں
باوجود ہزاروں کوششوں کے ہم رہ جانیوالے 6 بھائی پوری نہیں کرپاہے۔ اور 4 سال گزرنے کے بوجودانکے دوستوں کی تعداد بھی نہیں جان سکیں ہیں۔ قارئین انکے بارے میں باتیں لکھنے لگوں تو مدتوں لکھتاروں گا ۔چند دن قبل ہوئے میرے ایکسیڈنٹ کی وجہ سےمیں انکی تدفین میں شامل نہیں ہوسکا تھا ۔لیکن اسوقت زباں پر چلنے والے الفاظ بھول ںہیں پارا۔
جا او یار حوالے رب دے، ایہہ میلے سَن چار دِناں دے
اُس دِن عید مبارک ہوسی جِس دِن فیر مِلاں گے،
جا او او سوہنڑا یار حوالے رب دے لمبی پئی اے جُدائی
رب مِلایا تان ان ملسوں پر نظر آندی ہور امُید نہ کائی۔
جا ا و یار حوالے رب دے ہن مِلناں نال نصیباں
تُساں اَساں نُوں ہے بُھل جانڑا رکھنا یاد غریباں۔۔۔