سکھر( بیورو چیف دعا آن لائن نیوز سیدضیاءالرحمٰن )
سکھر پریس کلب کے سامنے مغوی معصوم علی اصغر منگریو کی بازیابی کے لیے مسلسل 290 روز سے احتجاج جاری ہے۔ جو آج تک بازیاب نہیں ہوسکا ہے. اور جب کہ علی اصغر کے اغوا کار اور بونگا مانگنے والے نامی نیٹ ہیں،میں مُسلسل اتجاج کر کے تھک چُکا ہوں،ابھی مینے 20 دن کا ٹائم دیا ہے، وزیرے اعلٰی سندھ کو، ہوم سیکرٹری سندھ، ائی جی سندھ، ڈی ائی جی سکھر، ایس ایس پی سکہر کو، اگر میرا بیٹا بیس دن میں بازیاب نہیں ہوا، تو میں ان کی تصویریں پریس کلب سکھر کے اگے رکھ کر پیشاب کروں گا، تو ان کے بے عزتی کے ذمہ دار یہ چاروں ہی بندھے ہوں گے، علی اصغر کے اغوا کار، پی ڈی ایس پی خالد منگریو، منظور منگریو، سعید منگریو اور جنید منگریو ہیں. اِن کے نمبر اجینسی نے ٹریس کر کے دیئے تھے۔اگر پولیس مزید سيڈیارے نکلواتی ٹاور کی جیوفینسنگ کرواتے تو اغوا کارو کی پوری گھنک پکڑی جاتی اور بروقت میرا بیٹا بازیاب ہوجاتا، پولیس نے ایسا نہیں کیا، پولیس میرے بیٹے کے اغوا میں ملوث ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم سے ہوم سیکریٹری سندھ نے ایجنسی کی جی آئی ٹی تشکیل دی تھی جس نے ڈھائی سال میں 50 میٹنگ کی۔ اس انکوائری میں ملزمان قصور وار ثابت ہوے ہیں، جی آئی ٹی نے ہائی کورٹ میں لکھ کر دیا ہے۔ کہ علی اصغر اغوا ہے۔ہم دوسری GIT بناتے ہیں جو علی اصغر کو باریاب کرآینگی،اُس انکوائری کو دو سال ہو چکے ہیں، اور علی اصغر کو نو سال ہو چکے ہیں۔ابھی GIT کے ممبر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہی علی اصغر اغوا نہیں ہے اور یہ چاروں جوابدر نہیں ہیں پھر میں اپنا بیٹا اللّٰہ پر شوڑ دونگا۔
علی اصغر منگریو کو ان کے قید میں سے آزاد کرایا جائے. ہماری بے چینی ختم کی جائے۔ علی اصغر کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ کا نوٹیس لیا جائے،
احتجاجی مظاہرے میں شامل ریلوے پولیس کانسٹیبل سکھر ڈویژن زاهد حسين مڱريو ، اعظم منگریو ، محمد علی اور احمد علی منگریو، اور شہریو نے شرکت کی۔ ریاست کو للکارتے ہوئے سب نے علی اصغر کی بازیابی کے لیے مطالبہ کیا۔
جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے 10 ماہ سے جاری احتجاجی کیمپ کے باوجود عدالت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر مطالبہ کیا کہ میرا بیٹا بازیاب کروا کر دیا جائے۔سندھ حکومت اور سندھ پولیس نے انصاف کو دفن کر دیا ہے۔ دن رات احتجاج تب تک جاری رہے گی جب تک علی اصغر منگریو بازیاب نہیں ہو گا۔
71









